یلدا حکیم کا تہلکہ خیز دعویٰ؛ بانی پی ٹی آئی نے ٹیریان وائٹ کی آمد اور عوامی ردِعمل کے خوف سے قاسم اور سلیمان کو پاکستان آنے سے روک کر دورہ منسوخ کرا دیا

February 11, 2026

افغان میڈیا پر دہشت گردی کی کھلی وکالت کرتے ہوئے تجزیہ کار عبدالجبار سٹانکزئی نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ٹی ٹی پی اور شدت پسندوں کو پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کے اغواء کی ترغیب دے دی ہے

February 11, 2026

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2025 کی رپورٹ میں افغانستان کی بدترین رینکنگ؛ عدالتی نظام کی کمزوری، احتسابی اداروں پر حکومتی غلبے اور بین الاقوامی نگرانی کے فقدان کو تنزلی کی بڑی وجوہات قرار دے دیا گیا

February 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی 37 ویں رپورٹ نے افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی تصدیق کر دی؛ ٹی ٹی پی کو حاصل طالبان کی سرپرستی، جدید اسلحے تک رسائی اور نور ولی محسود کے ‘جعلی مفتی’ ہونے کے انکشافات

February 11, 2026

سی پی آئی 2025 پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ضرور ہے، مگر یہ پیغام خود اطمینانی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ اگر گزشتہ چار برسوں کی اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ بہتری محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی اعتماد اور ریاستی ساکھ میں بھی حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

February 10, 2026

اگرچہ قوم کا فیصلہ کل واضح ہو جائے گا، تاہم جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سب سے نمایاں بدعنوانی ہے، کیونکہ حسینہ دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ بیروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔

February 10, 2026

کمزور عدلیہ اور غیر شفاف انتظامیہ: افغانستان دنیا کے بدعنوان ترین ممالک کی فہرست میں شامل

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2025 کی رپورٹ میں افغانستان کی بدترین رینکنگ؛ عدالتی نظام کی کمزوری، احتسابی اداروں پر حکومتی غلبے اور بین الاقوامی نگرانی کے فقدان کو تنزلی کی بڑی وجوہات قرار دے دیا گیا
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2025 کی رپورٹ میں افغانستان کی بدترین رینکنگ؛ عدالتی نظام کی کمزوری، احتسابی اداروں پر حکومتی غلبے اور بین الاقوامی نگرانی کے فقدان کو تنزلی کی بڑی وجوہات قرار دے دیا گیا

افغانستان میں بدعنوانی کے بڑھتے سائے اور بین الاقوامی سطح پر گرتا وقار؛ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے کابل انتظامیہ کے دعووں کی قلعی کھول دی

February 11, 2026

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ ‘کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) 2025’ نے افغانستان کے انتظامی و حکومتی ڈھانچے کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کے اسکور میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد ملک ایک بار پھر دنیا کے ان خطوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں بدعنوانی کی شرح بلند ترین اور حکومتی جوابدہی کی سطح کم ترین ہے۔ اس تنزلی نے نہ صرف ملکی سطح پر تشویش پیدا کی ہے بلکہ بین الاقوامی برادری اور عالمی مالیاتی اداروں کے لیے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔

ملک میں کرپشن کی موجودہ لہر اور اسکور میں گراوٹ کی بنیادی وجہ ادارتی خودمختاری کا مکمل خاتمہ ہے۔ افغانستان میں احتسابی اداروں اور اینٹی کرپشن کمیشنوں کی غیر فعالی یا ان پر براہِ راست حکومتی اثر و رسوخ نے بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب نگران ادارے آزادانہ فیصلے کرنے کی سکت کھو دیں، تو نظام میں کرپشن کی جڑیں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایک مستحکم اور آزاد عدالتی نظام کی عدم موجودگی میں بااثر اور طاقتور افراد کا احتساب تقریبًا ناممکن ہو گیا ہے۔ عدلیہ کی آزادی سلب ہونے سے نہ صرف اعلیٰ سطح پر بدعنوانی بڑھی ہے بلکہ نچلی سطح پر بھی اقربا پروری اور رشوت ستانی کو فروغ ملا ہے، جس سے عام شہری کے لیے انصاف کا حصول ایک مشکل خواب بن چکا ہے۔

انتظامی سطح پر دیکھا جائے تو سرکاری تقرریوں، بڑے ترقیاتی ٹھیکوں کی تقسیم اور کلیدی مالیاتی فیصلوں میں عوامی رسائی کا نہ ہونا پورے نظام کو غیر شفاف بنا رہا ہے۔ ڈیجیٹل نگرانی اور جدید آڈٹ سسٹم کی عدم موجودگی کے باعث مالی معاملات میں ہیرا پھیری کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مزید برآں، بین الاقوامی نگرانی کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے؛ غیر ملکی مبصرین اور انسانی حقوق کے اداروں کی محدود رسائی کے باعث حکومتی اخراجات اور عوامی فنڈز کے استعمال کی جانچ پڑتال کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ‘چیک اینڈ بیلنس’ کا یہ خلا حکومتی سطح پر من مانے فیصلوں اور قومی اثاثوں کے غیر منصفانہ استعمال کا باعث بن رہا ہے۔

موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ماہرین کا ماننا ہے کہ افغانستان کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ عالمی برادری میں اپنا وقار بحال کرنے کے لیے طرزِ عمل اور حکمرانی کے امور میں فوری اور جامع اصلاحات متعارف کرائے۔ اگر فوری طور پر انتظامی و عدالتی اصلاحات کے ذریعے میرٹ کی بالادستی قائم نہ کی گئی، تو افغانستان کو عالمی سطح پر مزید معاشی تنہائی اور سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت

متعلقہ مضامین

یلدا حکیم کا تہلکہ خیز دعویٰ؛ بانی پی ٹی آئی نے ٹیریان وائٹ کی آمد اور عوامی ردِعمل کے خوف سے قاسم اور سلیمان کو پاکستان آنے سے روک کر دورہ منسوخ کرا دیا

February 11, 2026

افغان میڈیا پر دہشت گردی کی کھلی وکالت کرتے ہوئے تجزیہ کار عبدالجبار سٹانکزئی نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ٹی ٹی پی اور شدت پسندوں کو پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کے اغواء کی ترغیب دے دی ہے

February 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی 37 ویں رپورٹ نے افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی تصدیق کر دی؛ ٹی ٹی پی کو حاصل طالبان کی سرپرستی، جدید اسلحے تک رسائی اور نور ولی محسود کے ‘جعلی مفتی’ ہونے کے انکشافات

February 11, 2026

سی پی آئی 2025 پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ضرور ہے، مگر یہ پیغام خود اطمینانی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ اگر گزشتہ چار برسوں کی اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ بہتری محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی اعتماد اور ریاستی ساکھ میں بھی حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

February 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *