"> نور ولی محسود: فتنہ الخوارج کا سرغنہ اور اس کی جعلی ڈگریوں کا انکشاف
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جعلی مفتی نور ولی محسود کے خوارج نظریے اور اسناد کو مستند علماء نے مسترد کر دیا

کالعدم ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کے سرغنہ نور ولی محسود کی علمی حیثیت بے نقاب؛ دینی اداروں نے اسے ‘جعلی مفتی’ قرار دیتے ہوئے اس کے نظریات کو مسترد کر دیا
کالعدم ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کے سرغنہ نور ولی محسود کی علمی حیثیت بے نقاب؛ دینی اداروں نے اسے 'جعلی مفتی' قرار دیتے ہوئے اس کے نظریات کو مسترد کر دیا

نور ولی محسود کی مذہبی ڈگریوں کو جید علماء نے جعلی قرار دے دیا ہے۔ فتنہ الخوارج کے خلاف 1800 علما کا فتویٰ اور حکومت کا قانونی کاروائی کا انتباہ

February 12, 2026

جعلی مفتی نور ولی محسود، جسے وزارتِ داخلہ نے ‘فتنہ الخوارج’ قرار دی جانے والی کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کا سربراہ نامزد کیا ہے، کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملک کے ممتاز دینی اداروں اور معتبر علما نے نور ولی کی مذہبی اسناد کو جعلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایک خود ساختہ مذہبی شخصیت ہے جس کے پاس کوئی مستند علمی ڈگری موجود نہیں۔ علمائے کرام کے مطابق یہ جعلی مفتی اسلام کا غلط استعمال کر کے بے گناہ شہریوں کے خلاف تشدد کو جواز فراہم کر رہا ہے، جو کہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

جعلی مفتی کی اسناد اور علمی حیثیت
جامعہ العربیہ احسن العلوم اور جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن جیسے جید تعلیمی اداروں نے باقاعدہ طور پر نور ولی کی ڈگریوں کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ دینی حلقوں کا کہنا ہے کہ نور ولی کے پاس نہ تو کوئی تسلیم شدہ دینی تربیت ہے اور نہ ہی وہ کسی مستند علمی ادارے سے فارغ التحصیل ہے۔ اسے “مفتی” کا لقب دینا علمی اور شرعی تقاضوں کی توہین ہے، کیونکہ منصبِ افتاء کے لیے تقویٰ، دیانت اور مستند علم کی ضرورت ہوتی ہے، جو نور ولی کے کردار اور بیانات سے کہیں ثابت نہیں ہوتا۔ معتبر علما نے اس کی مذہبی تعبیرات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے عوام کو اس سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔

فتنہ الخوارج کے خلاف قومی بیانیہ
یاد رہے کہ 26 جولائی 2024 کو حکومتِ پاکستان نے ایک سرکاری اعلامیے کے ذریعے ٹی ٹی پی کو ‘فتنہ الخوارج’ نامزد کیا تھا۔ اس فیصلے کی تائید میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے 1,800 سے زائد جید علما نے فتویٰ جاری کیا ہے، جس میں ریاست کے خلاف بغاوت اور خوارج کے نظریے کو اسلامی تعلیمات کی تحریف قرار دیا گیا ہے۔ ان علما کا موقف ہے کہ نور ولی جیسے عناصر دراصل اسلام کے لبادے میں ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور ان کا مقصد معاشرے میں انتشار پھیلانا ہے۔

قانونی انتباہ اور قوانین
سرکاری حکام نے واضح کیا ہے کہ فتنہ الخوارج یا ان کے سرغنہ نور ولی محسود کے مواد کی سوشل میڈیا پر ترویج، حمایت یا اشاعت جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ پیکا (PECA) قوانین کے تحت اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ حکومت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان گمراہ کن نظریات کے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں اور قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ ملک بھر میں ان شر پسند عناصر کے نظریاتی اور عسکری نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور علمی حلقے ایک پیج پر موجود ہیں۔

دیکھیے: افغانستان: عالمی دہشت گردی کا مرکز اور بین الاقوامی اداروں کی تشویشناک رپورٹس

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *