"> پلوامہ سے 5 اگست تک: بھارتی فریبِ کاریاں اور جنوبی ایشیا کے امن پر شب خون
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پلوامہ سے 5 اگست تک: بھارتی فریبِ کاریاں اور جنوبی ایشیا کے امن پر شب خون

پلوامہ واقعہ مودی سرکار کے ہندوتوا ایجنڈے اور 2019 کے انتخابات میں سیاسی برتری حاصل کرنے کا ایک مہرہ ثابت ہوا۔ بھارت نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آرٹیکل 35-اے پر شب خون مارا، جس کا مقصد وادی کے مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کر کے اسے وفاق میں ضم کرنا اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کو بگاڑنا تھا
پلوامہ واقعہ مودی سرکار کے ہندوتوا ایجنڈے اور 2019 کے انتخابات میں سیاسی برتری حاصل کرنے کا ایک مہرہ ثابت ہوا۔ بھارت نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آرٹیکل 35-اے پر شب خون مارا، جس کا مقصد وادی کے مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کر کے اسے وفاق میں ضم کرنا اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کو بگاڑنا تھا

پانچ اگست 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-اے کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی۔ رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 35-اے کشمیریوں کی شناخت، زمین اور آبادیاتی تناسب کے تحفظ سے جڑا ہوا تھا

February 14, 2026

آج سے سات برس قبل 14 فروری 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پلوامہ میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک عسکری حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی اور سیاسی بساط الٹنے کے لیے مودی سرکار کے ایک منظم اور خطرناک منصوبے کا نقطہ آغاز تھا۔ پاکستان نے روز اول سے ہی اس حقیقت پر زور دیا کہ بھارت نے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے بجائے اسے اپنے سیاسی مقاصد اور 2019 کے عام انتخابات میں ہندوتوا کے جذبات بھڑکانے کے لیے ایک ‘سیاسی ہتھیار’ کے طور پر استعمال کیا۔ پلوامہ کے لبادے میں نئی دہلی نے جس ‘نئے بھارت’ کا ڈھونگ رچایا، اس کی قیمت آج پورا خطہ عدم استحکام کی صورت میں چکا رہا ہے۔

پلوامہ کے فوری بعد فروری 2019 میں بالاکوٹ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور پھر پاکستان کے منہ توڑ جواب ‘آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ’ نے بھارتی جنگی جنون کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ پاکستان نے ناصرف بھارتی طیارے گرائے بلکہ گرفتار پائلٹ کو رہا کر کے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہونے کا ثبوت دیا، مگر مودی سرکار نے اس امن پسندی کو کمزوری سمجھ کر اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو مہمیز دی۔ اس پورے منظرنامے کا اصل مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر آخری وار کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔

اس سازش کا سیاہ ترین باب 5 اگست 2019 کو رقم ہوا، جب بھارتی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-اے کو منسوخ کر دیا۔ آرٹیکل 35-اے محض ایک قانونی دفعہ نہیں تھی بلکہ یہ کشمیریوں کی شناخت، ان کی زمین اور ان کے مستقبل کا محافظ تھی۔ اس قانون کے تحت غیر کشمیریوں کو ریاست میں زمین خریدنے یا مستقل سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی، جس کا مقصد کشمیر کے مسلم اکثریتی تشخص کو برقرار رکھنا تھا۔ اس قانون کا خاتمہ دراصل مقبوضہ وادی میں ‘آبادیاتی دہشت گردی’ کا آغاز تھا، تاکہ وادی کے جغرافیے کو ہندو اکثریت میں بدل کر استصوابِ رائے کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔

بھارت نے پلوامہ سے لے کر آرٹیکل 35-اے کے خاتمے تک جس ‘جارحانہ قوم پرستی’ کو فروغ دیا، اس نے سارک جیسی علاقائی تنظیموں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ آج جنوبی ایشیا کا امن ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف پاکستان کا صبرو تحمل اور اصولی موقف ہے، تو دوسری طرف بھارت کی ہٹ دھرمی اور ہندوتوا کا فاشسٹ ایجنڈا۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے، جہاں انسانی حقوق کی پامالی اب ایک روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔

جب تک عالمی برادری بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کا نوٹس نہیں لیتی اور جب تک آرٹیکل 35-اے کی منسوخی جیسے سیاہ قوانین واپس نہیں لیے جاتے، خطے میں پائیدار امن ایک خواب رہے گا۔ پاکستان کا بیانیہ آج بھی دوٹوک ہے: کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پلوامہ کی آڑ میں شروع کیا گیا بھارتی ڈرامہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں حق و صداقت کی فتح یقینی ہے اور کشمیریوں کا لہو رنگ لا کر رہے گا۔

دیکھیے: افغانستان میں سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رہائش کی پیشکش اور عالمی تحفظات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *