مارگلہ کے پہاڑی سلسلے سے ملحقہ علاقوں میں ماحولیاتی بحالی کے لیے ایک بڑی شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، جسے ماہرین ماحولیات نے خوش آئند اور بروقت اقدام قرار دیا ہے۔ ٹیکسلا کی جانب سے محکمہ جنگلات پنجاب کی جانب سے اس سطح کی منظم اور جامع مہم کی توقع کم ہی کی جا رہی تھی، تاہم حالیہ پیش رفت نے اس تاثر کو بدل دیا ہے۔
حکام کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اس اقدام کی براہِ راست نگرانی کر رہی ہیں۔ منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں 50 ہزار پودے لگائے جائیں گے، جس کا مقصد ماضی میں کرشنگ سرگرمیوں سے متاثر ہونے والی زمین کی بحالی اور سبزہ زار کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
کرشنگ سے متاثرہ زمین کی بحالی
ذرائع کے مطابق مارگلہ سے ملحقہ بعض علاقوں میں غیر منظم کرشنگ سرگرمیوں نے قدرتی ماحول اور جنگلاتی رقبے کو نقصان پہنچایا تھا۔ نئی شجرکاری مہم اسی متاثرہ زمین کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی اقسام کے پودوں کی کاشت سے نہ صرف زمینی کٹاؤ میں کمی آئے گی بلکہ حیاتیاتی تنوع بھی بحال ہوگا۔
طلبہ اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت
منصوبے کا ایک اہم پہلو نوجوانوں اور طلبہ کی فعال شرکت ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ کو شجرکاری مہم میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ مقامی کمیونٹی، نوجوانوں اور رضاکاروں کی شمولیت کو ماہرین نے پائیدار نتائج کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ 50 ہزار پودے محض آغاز ہیں، آئندہ مراحل میں بیج بونے (سیڈ سوئنگ) اور طویل المدتی گرین کور کے فروغ کے لیے مزید اہداف مقرر کیے جائیں گے۔ منصوبے کا مقصد صرف درخت لگانا نہیں بلکہ پورے مارگلہ ایکو سسٹم کی بحالی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ماحولیاتی بحالی کی جانب اہم قدم
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر شجرکاری مہم تسلسل کے ساتھ جاری رکھی گئی اور پودوں کی نگہداشت کو یقینی بنایا گیا تو آنے والے برسوں میں مارگلہ کے پہاڑی سلسلے میں سبزہ زار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اس اقدام کو صوبائی حکومت کی ماحولیاتی ترجیحات کی عکاسی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ درختوں کی حفاظت اور ماحول دوست سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور سرسبز ماحول یقینی بنایا جا سکے۔