"> کابل میں میڈیا کارکن انوشہ محمدی کا پُراسرار قتل؛ صحافتی حلقوں میں شدید تشویش
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کابل میں تجربہ کار صحافی انوشہ محمدی کا پُراسرار قتل، صحافی حلقوں میں تشویش

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ رات تجربہ کار میڈیا کارکن انوشہ محمدی کو پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا، جس کے بعد صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ رات تجربہ کار میڈیا کارکن انوشہ محمدی کو پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا، جس کے بعد صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے

کابل میں میڈیا کارکن اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم انوشہ محمدی کے پراسرار قتل نے افغانستان میں صحافیوں کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں

February 18, 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل سے انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں گزشتہ شب میڈیا اور انسانی حقوق کی کارکن انوشہ محمدی کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ اس واقعے نے ملک میں صحافیوں، بالخصوص خواتین میڈیا کارکن کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

واقعے کی تفصیلات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق انوشہ محمدی کو کابل کے ایک علاقے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم قتل کے محرکات اور قاتلوں کی شناخت تاحال پراسرار بنی ہوئی ہے۔ مقامی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، لیکن ابھی تک کسی گروہ نے اس کاروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سماجی حلقوں کا ردِعمل
انوشہ محمدی طویل عرصے سے میڈیا کے شعبے سے وابستہ تھیں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہتی تھیں۔ ان کے قتل پر مقامی اور عالمی صحافتی تنظیموں نے گہرے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات افغانستان میں آزادئ صحافت اور خواتین کارکنوں کے لیے کام کرنے کے حالات کو مزید کٹھن بنا دیں گے۔

تحقیقات کا مطالبہ
بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کابل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل کی شفاف اور فوری تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان میں میڈیا ہاؤسز اور صحافتی کارکن پہلے ہی شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

دیکھیے: اے ایف ایف کا مسلسل تیسرا حملہ، 4 طالبان ہلاک و زخمی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *