تاہم افتتاحی روز بھی طویل قطاروں، رش اور انتظامی الجھنوں کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد منتظمین نے نمائش کے اوقات میں توسیع اور داخلے کے انتظامات بہتر بنانے کا اعلان کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے اور امید ہے کہ یہ ایونٹ ملک میں مصنوعی ذہانت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

February 18, 2026

امریکی حکام کے مطابق نیو جرسی میں زیرِ حراست ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور عدالت کے فیصلے تک اسے تحویل میں رکھا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ عوامی تحفظ اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

February 18, 2026

وفاقی وزیر احسن اقبال کی ڈھاکہ میں وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات اور بیگم خالدہ ضیاء کو خراجِ عقیدت؛ عوامی سطح پر پاکستانی پرچم کا والہانہ استقبال

February 18, 2026

افغانستان میں قندھاری اور حقانی دھڑوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے شدت پسند گروہوں کی نئی صف بندی کو جنم دے دیا ہے، جہاں مختلف تنظیموں کے درمیان اتحاد اور دھمکی آمیز بیانات خطے میں ممکنہ پراکسی جنگ اور عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں

February 18, 2026

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کے مطابق افغانستان کا پاسپورٹ دنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے، جس کے حامل افراد کو صرف 24 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے

February 18, 2026

بھارت نے امریکی دباؤ پر ایران سے بے وفائی کرتے ہوئے تین آئل ٹینکرز ضبط کر لیے ہیں۔ چابہار کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے اور ایران میں بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کی گرفتاری نے دہلی کی ‘موقع پرست’ سیاست اور تہران سے غداری کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے

February 18, 2026

دہلی اے آئی سمٹ میں بھارتی یونیورسٹی کا متنازع دعویٰ، چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد قرار دے دیا

تاہم افتتاحی روز بھی طویل قطاروں، رش اور انتظامی الجھنوں کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد منتظمین نے نمائش کے اوقات میں توسیع اور داخلے کے انتظامات بہتر بنانے کا اعلان کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے اور امید ہے کہ یہ ایونٹ ملک میں مصنوعی ذہانت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دہلی اے آئی سمٹ میں بھارتی یونیورسٹی کا متنازع دعویٰ، چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد قرار دے دیا

بھارت کے آئی ٹی سیکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ اس تنازع کو سمٹ میں شریک دیگر افراد کی محنت پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔

February 18, 2026

بھارت کے دارالحکومت میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران ایک بھارتی یونیورسٹی اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب اس کے ایک اہلکار نے چینی ساختہ روبوٹک ڈاگ کو اپنی ایجاد قرار دے دیا۔ واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کو جنم دیا اور سمٹ کے منتظمین کے لیے سبکی کا باعث بن گیا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گالگوٹیا یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نہا سنگھ نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اورین” نامی روبوٹ ان کے سینٹر آف ایکسیلنس میں تیار کیا گیا ہے۔ ان کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جس کے بعد آن لائن صارفین نے نشاندہی کی کہ مذکورہ روبوٹ دراصل چینی کمپنی یونٹری روبوٹکس کا تیار کردہ “گو ٹو” ماڈل ہے، جو تقریباً دو لاکھ بھارتی روپے میں تجارتی طور پر دستیاب ہے۔

بدھ کے روز جاری بیان میں یونیورسٹی نے اس تاثر کی تردید کی کہ اس نے روبوٹ خود تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو “پروپیگنڈا مہم” قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ روبوٹک پروگرامنگ کا مقصد طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی عملی تربیت دینا اور عالمی سطح پر دستیاب ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی دنیا کی مہارتیں سکھانا ہے۔

پروفیسر نہا سنگھ نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ممکن ہے میں اپنی بات درست انداز میں نہ پہنچا سکی ہوں یا آپ میری بات کو صحیح طرح نہ سمجھ سکے ہوں۔”

تاہم سوشل میڈیا صارفین نے یونیورسٹی پر بددیانتی کا الزام عائد کیا۔ رپورٹس کے مطابق تنازع کے بعد یونیورسٹی سے کہا گیا کہ وہ سمٹ میں اپنا اسٹال خالی کر دے، اگرچہ فیکلٹی اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹس موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے رپورٹ کیا کہ تنازع کے بعد اسٹال کی بجلی منقطع کر دی گئی۔ موقع پر موجود ایک صحافی کے مطابق اسٹال کی بتیاں بند تھیں اور یونیورسٹی کا عملہ وہاں موجود نہیں تھا۔

یہ واقعہ سمٹ کے منتظمین کے لیے اس لیے بھی باعثِ شرمندگی بنا کہ مذکورہ ویڈیو آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی شیئر کی گئی تھی، جسے بعد میں حذف کر دیا گیا۔

بھارت کے آئی ٹی سیکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ اس تنازع کو سمٹ میں شریک دیگر افراد کی محنت پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع کو غیر ضروری شور شرابے یا ذاتی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، اور تمام شرکاء کو ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنی چاہیے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بھارت منڈپم میں افتتاح کیے گئے پانچ روزہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں سو سے زائد ممالک کے مندوبین شریک ہیں، جن میں کئی سربراہانِ حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی رہنما بھی شامل ہیں۔ سمٹ میں پالیسی مباحث، اسٹارٹ اپ نمائشیں اور مصنوعی ذہانت کے گورننس و انفراسٹرکچر پر بند کمرہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔

تاہم افتتاحی روز بھی طویل قطاروں، رش اور انتظامی الجھنوں کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد منتظمین نے نمائش کے اوقات میں توسیع اور داخلے کے انتظامات بہتر بنانے کا اعلان کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے اور امید ہے کہ یہ ایونٹ ملک میں مصنوعی ذہانت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

امریکی حکام کے مطابق نیو جرسی میں زیرِ حراست ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور عدالت کے فیصلے تک اسے تحویل میں رکھا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ عوامی تحفظ اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

February 18, 2026

وفاقی وزیر احسن اقبال کی ڈھاکہ میں وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات اور بیگم خالدہ ضیاء کو خراجِ عقیدت؛ عوامی سطح پر پاکستانی پرچم کا والہانہ استقبال

February 18, 2026

افغانستان میں قندھاری اور حقانی دھڑوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے شدت پسند گروہوں کی نئی صف بندی کو جنم دے دیا ہے، جہاں مختلف تنظیموں کے درمیان اتحاد اور دھمکی آمیز بیانات خطے میں ممکنہ پراکسی جنگ اور عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں

February 18, 2026

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کے مطابق افغانستان کا پاسپورٹ دنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے، جس کے حامل افراد کو صرف 24 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے

February 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *