بھارت کے دارالحکومت میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران ایک بھارتی یونیورسٹی اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب اس کے ایک اہلکار نے چینی ساختہ روبوٹک ڈاگ کو اپنی ایجاد قرار دے دیا۔ واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کو جنم دیا اور سمٹ کے منتظمین کے لیے سبکی کا باعث بن گیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گالگوٹیا یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نہا سنگھ نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اورین” نامی روبوٹ ان کے سینٹر آف ایکسیلنس میں تیار کیا گیا ہے۔ ان کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جس کے بعد آن لائن صارفین نے نشاندہی کی کہ مذکورہ روبوٹ دراصل چینی کمپنی یونٹری روبوٹکس کا تیار کردہ “گو ٹو” ماڈل ہے، جو تقریباً دو لاکھ بھارتی روپے میں تجارتی طور پر دستیاب ہے۔
بدھ کے روز جاری بیان میں یونیورسٹی نے اس تاثر کی تردید کی کہ اس نے روبوٹ خود تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو “پروپیگنڈا مہم” قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ روبوٹک پروگرامنگ کا مقصد طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی عملی تربیت دینا اور عالمی سطح پر دستیاب ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی دنیا کی مہارتیں سکھانا ہے۔
پروفیسر نہا سنگھ نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ممکن ہے میں اپنی بات درست انداز میں نہ پہنچا سکی ہوں یا آپ میری بات کو صحیح طرح نہ سمجھ سکے ہوں۔”
تاہم سوشل میڈیا صارفین نے یونیورسٹی پر بددیانتی کا الزام عائد کیا۔ رپورٹس کے مطابق تنازع کے بعد یونیورسٹی سے کہا گیا کہ وہ سمٹ میں اپنا اسٹال خالی کر دے، اگرچہ فیکلٹی اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹس موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے رپورٹ کیا کہ تنازع کے بعد اسٹال کی بجلی منقطع کر دی گئی۔ موقع پر موجود ایک صحافی کے مطابق اسٹال کی بتیاں بند تھیں اور یونیورسٹی کا عملہ وہاں موجود نہیں تھا۔
یہ واقعہ سمٹ کے منتظمین کے لیے اس لیے بھی باعثِ شرمندگی بنا کہ مذکورہ ویڈیو آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی شیئر کی گئی تھی، جسے بعد میں حذف کر دیا گیا۔
بھارت کے آئی ٹی سیکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ اس تنازع کو سمٹ میں شریک دیگر افراد کی محنت پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع کو غیر ضروری شور شرابے یا ذاتی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، اور تمام شرکاء کو ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنی چاہیے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بھارت منڈپم میں افتتاح کیے گئے پانچ روزہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں سو سے زائد ممالک کے مندوبین شریک ہیں، جن میں کئی سربراہانِ حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی رہنما بھی شامل ہیں۔ سمٹ میں پالیسی مباحث، اسٹارٹ اپ نمائشیں اور مصنوعی ذہانت کے گورننس و انفراسٹرکچر پر بند کمرہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔
تاہم افتتاحی روز بھی طویل قطاروں، رش اور انتظامی الجھنوں کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد منتظمین نے نمائش کے اوقات میں توسیع اور داخلے کے انتظامات بہتر بنانے کا اعلان کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے اور امید ہے کہ یہ ایونٹ ملک میں مصنوعی ذہانت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔