بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت، طبی معائنے اور ملاقاتوں کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیانیاتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں جن میں ایک دوسرے پر قانون شکنی، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور اداروں کو متنازع بنانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی مؤقف اختیار کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی فرد یا ادارے کا نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جس میں پی ٹی آئی کی تجویز کردہ ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا گیا، اور طبی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا عمل جاری ہے۔ ان حلقوں کا سوال ہے کہ اگر طبی معائنے کا عمل شفاف انداز میں ہو رہا ہے تو پھر اعتراض اور بے چینی کی وجہ کیا ہے؟
حکومتی بیانیے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے سڑکوں کی بندش اور دھرنوں کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ایمبولینسوں کی روانگی متاثر ہوئی اور معمولاتِ زندگی درہم برہم ہوئے۔ ان کے مطابق پولیس نے عدالت کے احکامات پر کارروائی کی اور آئی جی کو ہدایات پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئیں، اس لیے فوج کو بیچ میں لا کر بیانیہ بنانا حقائق کے منافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “صحت کے نام پر سیاست” کی جا رہی ہے جس کی قیمت عام شہری ادا کر رہا ہے، اور ریاست قانون کی پاسداری یقینی بنائے گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے صرف اپنے ذاتی معالجین سے ملاقات کی درخواست کی ہے جو ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق اگر حکومت واقعی شفاف ہے تو ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی ممبران کو معائنے کے دوران موجود ہونے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟ ان کا دعویٰ ہے کہ ملاقاتوں پر پابندیاں اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونا شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک سال سے مقدمات کی سماعت میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے اور جیل انتظامیہ عدالتی احکامات پر مکمل عمل کیوں نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق کارکنان پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور ان کا واحد مطالبہ بانی چیئرمین کے لیے شفاف اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔
مزید برآں بعض رہنماؤں نے آئی جی پولیس خیبر پختونخوا کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پیدا ہونے والی کشیدگی سیاسی ماحول کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ ان کے بقول اداروں کو غیر جانب دار رہنا چاہیے تاکہ حالات مزید نہ بگڑیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاملہ اب صرف طبی سہولیات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ آئینی حقوق، عدالتی عمل اور سیاسی اعتماد کے بحران سے جڑ چکا ہے۔ موجودہ صورتحال میں فریقین کے درمیان تناؤ کم کرنے اور شفاف قانونی عمل کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی کشیدگی عوامی سطح پر مزید نہ پھیلے۔