"> نئے حکومتی فریم ورک کے تحت پاکستان میں آئی فون کی مقامی تیاری کا امکان - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

نئے حکومتی فریم ورک کے تحت پاکستان میں آئی فون کی مقامی تیاری کا امکان

حکام کے مطابق ایپل اس سے قبل انڈونیشیا، ملیشیا اور انڈیا میں بھی اسی ماڈل پر کام کر چکی ہے، جہاں ابتدا پرانے فونز کی مرمت سے کی گئی اور بعد ازاں مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت ہوئی۔
نئے حکومتی فریم ورک کے تحت پاکستان میں آئی فون کی مقامی تیاری کا امکان

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع اور مقامی صنعت کے فروغ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

February 19, 2026

ایپل نے حکومتِ پاکستان کے مجوزہ موبائل و الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ فریم ورک کے تحت ملک میں آئی فون کی تیاری اور ریفربشنگ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں دو سے تین سال پرانے آئی فونز کی مرمت اور ریفربشنگ کی جائے گی، جنہیں بعد ازاں برآمد کیا جائے گا۔ پہلے سال ری ایکسپورٹ کے ذریعے تقریباً 10 کروڑ ڈالر آمدن کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حماد علی منصور کے مطابق کمپنی کی انتظامیہ نے رعایتی نرخوں پر زمین، 8 فیصد کارکردگی ترغیب (پرفارمنس انسینٹو) اور دیگر سہولیات کی درخواست کی ہے، جنہیں مجوزہ پالیسی میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ فریم ورک وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کا منتظر ہے۔

حکام کے مطابق ایپل اس سے قبل انڈونیشیا، ملیشیا اور انڈیا میں بھی اسی ماڈل پر کام کر چکی ہے، جہاں ابتدا پرانے فونز کی مرمت سے کی گئی اور بعد ازاں مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت ہوئی۔

حکومت اس وقت موبائل فون ساز کمپنیوں کو 6 فیصد کارکردگی ترغیب دے رہی ہے، جسے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے نئی موبائل و الیکٹرانکس پالیسی کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ وزیر اعظم کے دورہ بیجنگ کے دوران طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں کے نتیجے میں چینی کمپنیوں کی جانب سے تقریباً 55 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔ نئی پالیسی کے تحت لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ، اسمارٹ واچز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی مقامی تیاری کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ پاکستان کو خطے میں موبائل اور الیکٹرانکس برآمدات کا مرکز بنایا جا سکے۔

فریم ورک کے مطابق موبائل فونز میں مقامی پرزہ جات کے استعمال کو پہلے سال 12 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد تک لانے اور بعد ازاں 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مزید برآں مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے 6 فیصد تک ایکسپورٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے، جس سے 62 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ تاہم 50 ہزار سے 60 ہزار روپے تک قیمت کے فونز اس لیوی سے مستثنیٰ ہوں گے، جبکہ یہ اطلاق صرف ایک لاکھ روپے سے زائد قیمت کے فونز پر ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع اور مقامی صنعت کے فروغ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *