شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی کم عمر کرکٹر آئینہ وزیر کی باؤلنگ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جہاں ان کے ٹیلنٹ کی پذیرائی ہو رہی ہے، وہیں ان کے خاندانی پس منظر اور علاقے کی صورتحال سے متعلق متضاد بیانیے بھی سامنے آئے ہیں۔ پشاور زلمی کے سربراہ جاوید آفریدی نے آئینہ وزیر کی مہارت کو سراہتے ہوئے انہیں ‘زلمی ویمن لیگ’ کے تربیتی پروگرام میں شامل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، تاکہ انہیں قومی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع مل سکے۔
سوشل میڈیا مہم اور پذیرائی
آئینہ وزیر کی ویڈیو سوشل میڈیا صارف بادشاہ پشتین کی جانب سے شیئر کیے جانے کے بعد وائرل ہوئی، جس پر معروف اسپورٹس جرنلسٹ احتشام الحق سمیت کئی شخصیات نے تبصرہ کرتے ہوئے انہیں پاکستان ویمن کرکٹ کا مستقبل قرار دیا۔ سابق رکنِ اسمبلی محسن داؤر نے بھی آئینہ وزیر کی ہمت کو سراہتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ چند ماہ قبل جاں بحق ہونے والے مقامی استاد عمر گل کی صاحبزادی ہیں۔
Aina Wazir from Waziristan, what a talent! She has made it to X. I promise that if she is utilised properly and provided with all the necessary facilities, she will one day lead Pakistan’s women’s team. She just needs the right platform. Do it! pic.twitter.com/uf6HWpAMlG
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) February 18, 2026
کے پی حکومت کا فیکٹ چیک اور حقائق
دوسری جانب، خیبر پختونخوا حکومت کے آفیشل ‘فیکٹ چیک’ سیل نے آئینہ وزیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری بعض دعوؤں کو گمراہ کن اور مربوط ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ آئینہ وزیر کے آبائی شہر کا واحد فعال اسکول ریاستی اداروں نے تباہ کیا، تاہم مقامی ذرائع نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔
فیکٹ چیک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ آئینہ وزیر کے والد، استاد عمر گل کو شدت پسند گروہ ‘ایف اے کے’ (FAK) کی جانب سے تدریس چھوڑنے کے لیے مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ ان دھمکیوں کے باوجود انہوں نے اپنا کام جاری رکھا، جس کے بعد 2025 میں اسی شدت پسند گروہ نے انہیں اغوا کے بعد قتل کر دیا۔ مزید برآں، شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں لڑکیوں کے اسکول کو بھی مئی 2024 میں انہی شدت پسند عناصر نے بارودی مواد سے اڑایا تھا۔
KP Fact Check ✅
— Fact Check – KP Govt (@factcheckkpgovt) February 20, 2026
🟠 Claim:
FAK-, PTM-, Afghan-, and RAW-linked social media accounts are circulating posts alongside images of young cricketer Aina Wazir and a damaged school building, alleging that “state mercenaries” blew up the only functioning girls’ school in her hometown.… pic.twitter.com/ThcmSYB1PN
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مخصوص نیٹ ورکس ایک بچے کی وائرل ویڈیو کے جذباتی اثر کا فائدہ اٹھا کر ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور شدت پسندوں کے کردار کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئینہ وزیر کا یہ سفر جہاں ان کے ذاتی عزم کی داستان ہے، وہیں یہ خطے میں تعلیم اور کھیلوں کے دشمن عناصر کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ بن کر ابھرا ہے۔