"> ہمدان علی کی ہلاکت: بی ایل اے کا "لاپتہ افراد" والا جھوٹا بیانیہ بے نقاب - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ہمدان علی کی ہلاکت: بی ایل اے کا “لاپتہ افراد” والا جھوٹا بیانیہ بے نقاب

بی ایل اے کا “لاپتہ افراد” سے متعلق بیانیہ اس وقت بری طرح ناکام ہو گیا جب ہمدان علی عدالت میں پیش ہوئے؛ دہشت گرد تنظیم نے اپنے نیٹ ورک کے راز فاش ہونے کے خوف سے اپنے ہی کارندے کو “خاموش” کروا دیا
بی ایل اے کا "لاپتہ افراد" سے متعلق بیانیہ اس وقت بری طرح ناکام ہو گیا جب ہمدان علی عدالت میں پیش ہوئے؛ دہشت گرد تنظیم نے اپنے نیٹ ورک کے راز فاش ہونے کے خوف سے اپنے ہی کارندے کو "خاموش" کروا دیا

ہمدان علی کی ہلاکت نے بی ایل اے کے "لاپتہ افراد" کے جھوٹے پروپیگنڈے کی قلعی کھول دی؛ تنظیم نے محفوظ ٹھکانوں اور لاجسٹکس کے راز افشا ہونے کے ڈر سے ہمدان علی کو قتل کر کے اپنے نیٹ ورک کو بچانے کی کوشش کی

February 21, 2026

بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کا “لاپتہ افراد” سے متعلق برسوں سے جاری من گھڑت بیانیہ اس وقت چکنا چور ہو گیا جب مبینہ طور پر لاپتہ قرار دیے جانے والے ہمدان علی عدالت میں پیش ہو گئے۔ اس پیش رفت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمدان علی کسی “اغوا” کا شکار نہیں تھے بلکہ قانونی کاروائی کے تحت زیرِ حراست تھے، جس سے تنظیم کے جھوٹے پروپیگنڈے کی قلعی کھل گئی ہے۔

راز فاش ہونے کا خوف
رپورٹ کے مطابق ہمدان علی کی عدالت میں پیشی اور قانونی عمل کا حصہ بننے سے دہشت گرد تنظیم کے صفوں میں کھلبلی مچ گئی۔ بی ایل اے کو یہ خوف لاحق تھا کہ ہمدان علی، عثمان قاضی کے مقدمے کی طرح، تنظیم کے محفوظ ٹھکانوں، سہولت کاروں اور لاجسٹکس کے خفیہ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیں گے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر تنظیم نے اپنے اس اہلکار کو، جو بہت زیادہ معلومات رکھتا تھا، ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا۔

موت اغوا نہیں، “مجرمانہ صفائی” تھی
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہمدان علی کی موت کوئی اتفاقیہ واقعہ یا اغواء کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ بی ایل اے کی جانب سے ایک مایوس کن “اندرونی صفائی” تھی تاکہ تنظیم کے زیرِ زمین ڈھانچے کو محفوظ رکھا جا سکے اور قانون کے ہاتھوں پکڑے گئے کارندوں کے ذریعے پہنچنے والے نقصان کو روکا جا سکے۔

ریاست مخالف بیانیے کی ناکامی
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اکثر اپنے ہی کارندوں کو ریاست کے خلاف “لاپتہ” کے طور پر پیش کرتی ہیں، لیکن جب وہی افراد قانونی عمل کا حصہ بن کر حقیقت فاش کرنے لگتے ہیں، تو انہیں خود ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ہمدان علی کے واقع جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ عوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں بی ایل اے کے مضحکہ خیز دعوؤں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

دیکھیے: باجوڑ میں 11 فوجیوں کی شہادت پر شدید احتجاج

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *