"> پاکستان کی کارروائیوں کے بعد افغانستان میں قبائلی دباؤ میں اضافہ، طالبان حکومت کو نئے چیلنجز درپیش - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان کی کارروائیوں کے بعد افغانستان میں قبائلی دباؤ میں اضافہ، طالبان حکومت کو نئے چیلنجز درپیش

ذرائع کے مطابق کم از کم 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ افغانستان کے جنوبی زون کے لیے صوبہ پکتیا کے گورنر مہر اللہ حمد سے ملا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مبینہ حملوں میں مارے گئے افراد کی لاشیں نکالی جا رہی تھیں اور طالبان نے واقعے کے مقام تک عام شہریوں کی رسائی محدود کر رکھی تھی۔
پاکستان کی کارروائیوں کے بعد افغانستان میں قبائلی دباؤ میں اضافہ، طالبان حکومت کو نئے چیلنجز درپیش

ذرائع کے مطابق گورنر پکتیا نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر قندھار میں امیر طالبان ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دفتر کو آگاہ کیا۔ اطلاعات ہیں کہ وزیر دفاع ملا یعقوب اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس کے سربراہ عبدالحق وثیق کو مقامی گورنروں کے ساتھ مل کر حل تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

February 23, 2026

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر مبینہ شدت پسند ٹھکانوں پر کی گئی حالیہ کارروائیوں کے بعد طالبان حکومت کو اندرونی سطح پر غیر معمولی قبائلی دباؤ کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق 22 فروری کو خوست، پکتیکا اور پکتیا سے تعلق رکھنے والے سات بڑے قبائل زدران، منگل، سلیمان خیل، خروٹی، زازی، احمدزئی اور کاکڑ نے طالبان حکام سے رابطہ کر کے مطالبہ کیا کہ ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کے جنگجوؤں کو فوری طور پر ان کے علاقوں سے منتقل کیا جائے۔ قبائلی عمائدین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے کارروائی نہ کی تو قبائل اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق کم از کم 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ افغانستان کے جنوبی زون کے لیے صوبہ پکتیا کے گورنر مہر اللہ حمد سے ملا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مبینہ حملوں میں مارے گئے افراد کی لاشیں نکالی جا رہی تھیں اور طالبان نے واقعے کے مقام تک عام شہریوں کی رسائی محدود کر رکھی تھی۔ وفد کی قیادت پادشاہ خان زدران (قبیلہ زدران)، عبدالجبار منگل (قبیلہ منگل) اور حکمت اللہ محسود (قبیلہ سلیمان خیل) نے کی۔ جرگہ اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ سرحدی علاقوں میں حکومت کے زیرِ سرپرستی عناصر کی موجودگی کے باعث پاکستانی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے جان و مال اور کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ مقامی آبادی کو ہراساں کرنے، بھتہ خوری اور لوٹ مار میں بھی ملوث ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ زدران قبیلے کے افراد نے سراج الدین حقانی سے مداخلت کی درخواست کی، تاہم مبینہ طور پر ان کی جانب سے عملی اقدام نہ ہو سکا جس کے بعد پادشاہ خان زدران نے قبیلے کی نمائندگی سنبھالی۔ مبصرین کے مطابق اس جرگے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ زدران قبیلے کی قیادت سراج الدین حقانی سے منسوب کی جاتی ہے، خروٹی قبیلہ گلبدین حکمت یار سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ احمدزئی قبیلہ سابق صدر اشرف غنی سے نسبت رکھتا ہے۔ ان بااثر قبائل کا مشترکہ مطالبہ طالبان قیادت کے لیے ایک سنجیدہ اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق گورنر پکتیا نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر قندھار میں امیر طالبان ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دفتر کو آگاہ کیا۔ اطلاعات ہیں کہ وزیر دفاع ملا یعقوب اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس کے سربراہ عبدالحق وثیق کو مقامی گورنروں کے ساتھ مل کر حل تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا یعقوب اور وثیق نے ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کو طلب کرنے اور جنگجوؤں کو شمالی علاقوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دینے پر غور کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے باضابطہ سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

ادھر کابل میں “افغان انڈیپنڈنس فرنٹ” نامی ایک نئے گروپ کے منظر عام پر آنے کی اطلاعات بھی ہیں، جس نے ویڈیو پیغام کے ذریعے طالبان کے خلاف اعلانِ جنگ کا دعویٰ کیا ہے۔ قیادت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم لہجے اور انداز کی بنیاد پر اسے شمالی علاقوں سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے ارکان کابل سمیت کئی صوبوں میں موجود ہیں، مگر ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

مجموعی طور پر صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرحدی کشیدگی کے بعد طالبان حکومت کو نہ صرف بیرونی دباؤ بلکہ اندرونی قبائلی بے چینی کا بھی سامنا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا کابل مقامی مطالبات کے مطابق عملی اقدامات کرتا ہے یا صورتِ حال مزید پیچیدہ رخ اختیار کرتی ہے۔

دیکھیے: قندوز میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا ایک اور حملہ، تین طالبان اہلکار ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *