یہ لاہور کا ایک عام سا ڈھابہ یا چائے خانہ تھا۔ لاہور میں آج کل کراچی کی طرح کوئٹہ ہوٹل کے نام کے بہت سے چھوٹے موٹے چائے کے ہوٹل، ڈھابے وغیرہ کھل چکے ہیں۔ عمدہ چائے بناتے ہیں، ساتھ لچھے دار پراٹھے بھی ۔
دو تین دن قبل کہیں گیا ہوا تھا، واپسی پر سوچا کہ گھر والوں کو کیا زحمت دینی، ایک ایسے قریبی چائے ہوٹل سے کڑک چائے پی لیتا ہوں۔ جس میز پر میں تھا، اس کے پیچھے تین چار لڑکے دھواں دھار بحث کر رہے تھے۔ یہ سب بڑے جوش وخروش سے پاکستان کی افغانستان پر ائیر سٹرائیکس کو امریکہ کی حمایت قرار دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دراصل افغانستان میں امریکی جنگ لڑ رہا ہے، صدر ٹرمپ کو بگرام ائیر بیس دینے کی خاطر۔ یہ ڈالروں کی جنگ ہے وغیرہ وغیرہ۔
پہلے تو چند منٹ میں سنتا رہا، پھر رہا نہ گیا۔ کرسی موڑ کی ان کی طرف رخ کیا اور نرمی سے پوچھا ۔ آپ پڑھے لکھے نوجوان ہیں، آپ سے تین سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اثبات میں سرہلایا تو پہلا سوال پوچھا کہ کون سا ملک امریکہ کا پسندیدہ اور قریب ترین ہےاور جس کے ساتھ امریکہ کے اٹوٹ رشتے ہیں۔ تینوں نے بے ساختہ جواب دیا، اصر ائیل۔ امریکہ اصر ائیل کی جنگ لڑتا ہے اور اصرا ئیل امریکہ کی۔
میرا دوسرا سوال ان نوجوانوں سے تھا کہ افغان طالبان حکومت کا اس وقت کون سا ملک ساتھ دے رہا ہے، جس نے پاکستانی حملوں کی مذمت بھی کی ہے ؟ ایک لمحے کے انتظار کئے بغیر انہوں نے کہا ، وہ ملک ا نڈیا ہے۔ افغان طالبان کے اہم لیڈر بھی انڈیا کا دورہ کر چکے ہیں، ا نڈیا بھی ان کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ میں نے نارمل چہرہ بنا کر تیسرا سوال کیا، انڈیااور اصرا ئیل ایک دوسرے کے شدید مخالف اور دشمن ملک ہوں گے؟ اس پر ایک نوجوان چٹخ کر بولا، انکل آپ لگتا ہے ٹی وی نہیں دیکھتے، اخبار بھی نہیں پڑھتے۔ انڈیا اور اصر ائیل ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتے تو انڈین وزیراعظم نے اصر ائیل کا دورہ کیا ہے۔ انڈیا اصرا ئیل سے اسلحہ اور جدید ترین ٹیکنالوجی لے رہا ہے۔
مجھے لگا کہ اب کاری ضرب لگانے کا وقت آگیا۔ انہیں کہا کہ آپ خود مان رہے ہیں کہ امریکہ کا بہترین اتحادی اصرا ئیل ہے۔ افغان طالبان حکومت کا بہترین دوست انڈیا ہے جبکہ انڈیا اور اصرا ئیل آپس میں بہترین دوست ہیں تو پھر تو یہ سیدھا سادا انڈیا، افغانستان، اصر ائیل الائنس ہی بن گیا۔ جس الائنس میں امریکہ کا سب سے قابل اعتماد پارٹنر اصر ائیل ہوگا، وہ امریکہ کامخالف تو نہیں ہوسکتا۔ لامحالہ امریکہ بھی اس میں شامل ہوگا یا اسے امریکی کی تائید اور سرپرستی حاصل ہوگی۔ اس لئے یہ دراصل افغانستان، انڈیا، اصر ائیل، امریکہ اتحاد ہی ہے۔ تو اب آپ خود بتائیں کہ افغانستان پر پاکستانی سٹرائیکس امریکی مفادات کو پورا کرنے کی خاطر کیسے ہوگئیں؟ امریکہ تو اس رائیل کے رشتے سے افغانستان کا گاڈفادر بننے جا رہا ہے۔ پاکستانی سٹرائیکس تو دراصل انڈیا، اس رائیل اور امریکہ کے خلاف ہی ہیں۔ ان کے حق میں یہ کیسے ہوگئیں ؟
میری اس بات پر ظاہر ہے، ان نوجوانوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ یہ بات مگر صرف چند نوجوان نہیں کہہ رہے۔ ہمارے ہاں سازشی تھیوریز پر یقین لے آنے والوں کی کمی نہیں۔ گزشتہ رات ایک افطار میں ہمارے ایک دوست جو خاصے مذہبی ہیں بلکہ پیر کہلاتے ہیں، پڑھے لکھے آدمی ہیں، اخبارات میں بھی لکھتے ہیں۔ وہ بھی یہی بات کر رہے تھے کہ پاکستان امریکی جنگ لڑ رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
اس بات کی حقیقت کو سمجھنا مشکل نہیں، اگر ارادہ اور نیت ہوتو۔ امریکہ افغانستان کو مختلف امدادی پروگراموں میں ڈالر بھجوا رہا ہے۔ یہ رقوم اقوام متحدہ کے ذریعے بھیجی جاتی ہے۔ ہر ہفتے چالیس پچاس ملین ڈالر کیش یعنی ماہانہ یہ ڈیڈھ سو ملین ڈالر کے قریب ہوجاتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق امریکہ نے دو ہزار اکیس (یعنی جب وہ افغانستان چھوڑ کر گیا) سے اب تک افغانستان کو پونے چار (3.8)ارب ڈالر مدد دی ہے۔ یوں اقوام متحدہ کے آفیشل اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں امریکہ افغانستان کا سب سے بڑا مدد دینے والا ملک بن چکا ہے۔ اب خود کئی اہم اور بڑے امریکی اداروں کے مطابق یہ رقم جو امداد کے نام پر دی جا رہی ہے، مختلف طریقوں سے گھوم پھر کر افغان طالبان کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔
اگر امریکہ نے افغانستان کو تنگ کرنا ہو، اپنی کوئی بات منوانی ہو، بگرام ائیر بیس واپس لینا ہو تو پہلا مرحلے پر امریکہ یہ ڈالر بھیجنا بند کر دے گا۔ صرف دو مہینوں میں افغان طالبان حکومت کولیپس ہوجائے گی، ماتھے کے بل زمین پر جا گرے گی کیونکہ ان کے پاس تو ڈالر ریزرو میں سرے سے ہیں ہی نہیں۔ افغانستان امریکی مدد کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔
پھر امریکا اگلا کام یہ کر سکتا ہے کہ جو ملک افغانستان میں انویسٹمنٹ کر رہا، ان سے تجارت کر رہا، اس پر پچاس سے سو فی صد ٹیرف لگا دے۔ یقین کریں کہ پہلے ہفتے ہی انڈیا وہاں سے ایسے بھاگے گا جیسے وہ ایران کی چابہار بندرگار چھوڑ کر فرار ہوا۔ چین بھی ٹھٹھک جائے گا۔ کوئی بھی ملک تب افغانستان کے ساتھ انگیجمنٹ نہیں کرے گا۔ طالبان پھر کیا کریں گے؟
اس لئے بھیا پاکستان امریکی جنگ نہیں لڑ رہا، کیونکہ امریکہ افغانستان سے لڑنا چاہتا ہی نہیں۔ امریکہ تو بھارت، اس را ئیل، افغانستان الائنس بننے دے رہا ہے، اپنی آشیر باد سے۔ وہ اس کا سرپرست بن جائے گا۔
یہ الائنس البتہ پاکستان کے لئے خطرہ ہے۔ انڈ ین منصوبہ ساز ٹو فرنٹ وار کی پلاننگ کئے بیٹھے تھے کہ پچھلے سال مئی کی طرح پاکستان پر حملہ آور ہوں اور ساتھ ہی مغربی سرحد سے افغان طالبان چڑھ دوڑیں۔ پاکستان نے انٹیلی جنس اطلاعات سے اس منصوبے کو جانا، سمجھا اور پھر کمال مہارت سے ائیرسٹرائیکس کر کے افغان طالبان کی جنگی قوت اور ہیوی ہتھیار پاش پاش کر دئیے۔ ہر وہ چیز جو پاکستان کے خلاف جنگ میں یہ افغان طالبان استعمال کر سکتے تھے، اسے تباہ کر دیا۔
پاکستان اپنی لڑائی لڑ رہا ہے، اپنی مغربی سرحد کو محفوظ بنا رہا۔ بفرزون بنا رہا۔ افغان طالبان کو اب بھی اگر سمجھ نہیں آئی تو پھر وہ اپنا نصف ملک تاجک، ازبک، ہزار اتحاد کے ہاتھوں گنوا بیٹھیں گے اور واخان کاریڈور پر بھی پاکستانی کنٹرول ہوسکتا ہے۔
کاش اب بھی افغان طالبان قیادت عقل کرے اور اپنے ملک کو تباہی سے بچا لے۔ ہم پاکستانی افغانوں کے دشمن نہیں، ہم صرف سکون اور آرام سے جینا چاہتے ہیں۔ یہ خواہش البتہ ہے کہ وہ ہمارے اندر مداخلت نہ کریں، ہم انہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ یہ تو سادہ ترین خواہش اور توقع ہے۔ اسے کون غلط کہہ سکتا ہے؟
نوٹ: یہ آرٹیکل عامر خاکوانی نے 92 نیوز کیلئے لکھا۔ کاپی رائٹ حقوق محفوظ رکھتے ہیں۔