افغانستان کی موجودہ صورتحال کو اگر جذبات سے ہٹ کر زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ کابل میں طالبان قیادت ایک ہی وقت میں دو مختلف زبانیں بول رہی ہے۔ ایک طرف افغان وزیر دفاع ملا یعقوب فرمائشی انٹرویو میں پاکستان کے خلاف سخت بیانات، جھوٹے دعوؤں، بے سروپا کہانیوں اور دھمکیوں کا سہارا لے رہے ہیں تو دوسری طرف وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی دنیا کے مختلف ممالک سے رابطے کرکے مذاکرات اور سفارتی حمایت کے لیے منت ترلا پروگرام شروع کیے ہوئے ہیں؛ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ طالبان رجیم میدان میں وہ پوزیشن کھو چکی ہے، جس کا وہ دعویٰ کر رہی تھی۔ طاقت کے نعرے اور عملی کمزوری کا یہ امتزاج کسی بھی کمزور حکومت کی پہچان ہوتا ہے۔
طالبان رجیم جسے مجموعۂ اضداد کہنا زیادہ موزوں ہوگا، اپنے ہی تضادات کا شکار ہو رہی ہے۔ ملا ہیبت اللہ اپنی خود ساختہ شریعت کے تحت مارچ 2024 سے مسلسل احکامات جاری کر رہے ہیں۔ انسانوں کی ویڈیوز کو حرام قرار دیا گیا ہے، ٹی وی چینلز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی نشریات میں زندہ انسانوں کی ویڈیوز استعمال نہیں کریں گے، اسی جرم میں کئی ٹی وی چینلز کو دفاتر کی بندش اور نمائندوں کی گرفتاری تک بھگتنا پڑی اور جب اپنی ضرورت پڑی تو شریعت بدل گئی؟ اصل شریعت تو 14 سو سال سے تبدیل نہیں ہوئی، یقیناً خود ساختہ شریعت میں ہی یہ سہولت دستیاب ہو سکتی ہے کہ جب چاہا حلال کر لیا جب چاہا حرام کر دیا۔
یہ مسجد ہے یہ میخانہ، تعجب اس پر آتا ہے جنابِ شیخ کا نقشِ قدم، یوں بھی ہے اور یوں بھی
تبدیل شدہ شریعت کے تحت ملا یعقوب نے فرمائش کرکے طلوع ٹی وی کو انٹرویو ریکارڈ کروایا جس کا ایک ایک سوال یہ بتانے کو کافی تھا کہ انتہائی احتیاط کے ساتھ دھمکیوں اور جھوٹ کے طومار میں لپیٹ کر اعترافِ شکست کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ’’ایک پیغام ہے ان کے لیے جو سمجھ سکتے ہیں۔‘‘ تھکا ہوا لہجہ، بیانیے میں تضاد، اپنی ہی باتوں کی تردید؛ ایک ایسے شکست خوردہ فریق کی التجا تھی جو اپنے ساتھیوں میں یہ بھرم بھی رکھنا چاہتا ہو کہ ’’دیکھو میں ہارا نہیں‘‘۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں کیے گئے مؤثر حملوں کے بعد افغانستان کے سرحدی علاقوں سے لے کر کابل تک اسلحہ ڈپو اور ملٹری انفراسٹرکچر تباہ کیا جا چکا ہے، جس میں ان کی فرعونیت کا بت ’باگرام‘ بھی پاش پاش ہوا پڑا ہے۔
امریکہ کا چھوڑا ہوا وہ اسلحہ بھی شامل ہے جس کے بل پر یہ رجیم خود کو سپر پاور خیال کرنے لگی تھی، اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے مراکز اور اسلحہ ڈپو بھی نیست و نابود ہو چکے ہیں۔ نوبت بایں جا رسید کہ پاکستان کے شدید فضائی حملوں کے خوف سے طالبان رجیم نے اپنے بچے کھچے 6 ہیلی کاپٹرز کو بامیان منتقل کر دیا ہے، بڑے لیڈروں کی فیملیز بھی وہیں بھیجی جا رہی ہیں جیسے پہلے پاکستان بھیجی جاتی تھیں، اب پہلی بار انہیں احساس ہوگا کہ پاکستان کی پناہ گاہ ان کے لیے کتنی اہم تھی۔
دہشت گردی کا یہ ڈھانچہ ٹوٹنے پر طالبان کو فوری طور پر اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کرنا پڑ رہی ہے، جو ان کے تضادات کو مزید نمایاں کر رہی ہے۔ 2024 کی پہلی سہ ماہی میں قندھاری رجیم نے شمال کے نان پشتون طالبان کو سکیورٹی رسک قرار دے کر انہیں غیر مسلح کیا تھا۔ بیچارہ آرمی چیف قاری فصیح الدین فطرت بھی کچھ نہ کر سکا، اس وقت شمال والے سکیورٹی رسک تھے، اب جب پاکستان بارڈر پر پشتون فورسز تباہی سے دوچار ہیں اور بارڈر پر جانے کو تیار نہیں تو شمال سے بڑی بھرتیاں کرکے افرادی قوت پوری کی جا رہی ہے۔ بغلان، بدخشاں، تخار اور بلخ سے ٹینکوں اور دیگر اسلحے کے ساتھ ساتھ جنگجوؤں کو جنوبی اور مشرقی سرحدی علاقوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ اگر طالبان واقعی اس پوزیشن میں ہوتے جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو انہیں اس طرح ہنگامی طور پر فورس اور اسلحہ منتقل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
اسی دوران کابل کی سفارتی سرگرمیوں میں اچانک تیزی بھی قابلِ توجہ ہے۔ افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے ایک ہی دن میں چین، روس اور قطر کے حکام سے رابطے کیے۔ چین کے سفیر ژاو شینگ سے ملاقات میں علاقائی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی پر بات کی گئی۔ اس کے علاوہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں بھی یہی موضوع زیر بحث رہا۔ یہاں تک کہ روس میں افغان نمائندے مولوی گل حسن نے روسی صدر کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف سے ملاقات میں بھی پاکستان کے ساتھ کشیدگی کا مسئلہ اٹھایا۔ اور تو اور، کم گو وزیراعظم ملا حسن سے بھی ملائشین وزیراعظم کو فون کروایا گیا؛ یہ ’منت ترلا پروگرام‘ ہے کہ کوئی سامنے آئے اور پاکستان کو سیز فائر پر مجبور کرے۔ سوال یہ ہے کہ اگر طالبان واقعی مضبوط ہیں تو انہیں اچانک اتنی سفارتی دوڑ دھوپ کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ طالبان اس وقت ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کا واضح اور سیدھا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے یا انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ دوسری طرف طالبان کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف کوئی پیچیدہ یا غیر معمولی مطالبہ نہیں ہے۔ دنیا کے ہر ملک کی طرح پاکستان بھی یہ حق رکھتا ہے کہ اس کی سرزمین کے خلاف کسی دوسرے ملک کی سرزمین استعمال نہ ہو۔ اگر افغانستان واقعی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کام کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ بنیادی اصول تسلیم کرنا ہوگا۔ طالبان کی مشکل یہ ہے کہ جن گروہوں کے خلاف پاکستان کاروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، وہ ان کی طاقت کا حصہ ہیں۔ اسی پس منظر میں وزیر دفاع ملا یعقوب کا حالیہ انٹرویو بھی سامنے آیا۔ بظاہر یہ انٹرویو طاقت اور اعتماد کا اظہار تھا لیکن اگر اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ دراصل ایک شکست خوردہ کمانڈر کی جھوٹی تسلیوں سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اس انٹرویو میں ملا یعقوب نے جو بیانیہ پیش کیا وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے افغانستان کی عسکری طاقت اور حکمت عملی کے بارے میں بڑے دعوے کیے مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر صورتحال واقعی اتنی مضبوط ہوتی تو طالبان کو نہ سفارتی اپیلوں کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی سرحدی علاقوں میں دفاعی نقل و حرکت کی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ طالبان کا پورا بیانیہ تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ افغانستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو علاقائی امن چاہتی ہے۔ دوسری طرف انہی کی سرزمین سے ایسے گروہ کام کرتے رہے ہیں جو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ طالبان کے نعرے اور دعوے کچھ اور ہیں، جبکہ زمینی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ وہ خود کو ایک مضبوط اور خودمختار حکومت کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر عملی طور پر انہیں سفارتی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹانا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان اس جنگ کو سیاسی اور سفارتی سطح پر ہار چکے ہیں۔ ان کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ ہے کہ سفارتی قلابازیاں کھانے اور در در پر دستِ سوال دراز کرنے کے بجائے امن کی جانب لوٹ آئیں، دہشت گردوں کی سرپرستی چھوڑیں؛ انہیں بھلے اپنے سینے سے لگا کر رکھیں لیکن اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، ورنہ جو ہو رہا ہے وہ جاری رہے گا۔