ابوظہبی / فجیرہ : متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں واقع پیٹرولیم کی صنعتی تنصیب پر ہونے والے ڈرون حملے اور میزائلوں کے تبادلے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق، ایران کی جانب سے متعدد میزائل داغے گئے جن میں سے تین کو جدید فضائی دفاعی نظام کی مدد سے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا جبکہ ایک میزائل سمندر میں جا گرا۔
اسی دوران فجیرہ کی پیٹرولیم صنعتی تنصیب کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آئل فیسلٹی میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ فجیرہ میڈیا آفس نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد یو اے ای کے صدر کے مشیر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایرانی اشتعال انگیزی کو خطے کے مستقبل کا نقشہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران حکومت نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے جارحیت کا راستہ چنا ہے جو کہ کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
جوابی ردعمل میں ایران کی جانب سے بھی سخت بیان سامنے آیا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، ایرانی عسکری ذرائع نے متحدہ عرب امارات کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اسرائیل کے آلہ کار نہ بنیں۔ ایرانی حکام نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی قسم کی عسکری غلطی کا انتہائی شدید اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
حالیہ پیش رفت کے بعد خطے کے ممالک کے درمیان سفارتی محاذ آرائی میں تیزی آ گئی ہے اور یو اے ای کی تمام تنصیبات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی برادری بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
دیکھئیے:ایران کا بڑا تجارتی اقدام: متحدہ عرب امارات پر انحصار ختم؛ پاکستان کے راستے درآمدات کا آغاز