یہ کہانی 2015 میں شروع ہوئی، جب امیرہ وقاص اور وقاص رشید ایک ازدواجی بندھن میں بندھے۔ ہماری معاشرتی روایات کے مطابق شادی دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ دونوں کی شادی ہوگئی ، کن حالات میں ہوئی اور کیسے ہوئی ، یہ معلومات کے دائرے میں نہیں ہےتاہم یہ طے ہے کہ زندگی کے فیصلے ہمیشہ انسانی خواہشات کے تابع نہیں ہوتے۔ محض چھ سال بعد، 2021 میں، گھریلو تلخیاں اس نہج پر پہنچیں کہ امیرہ اور وقاص کا یہ رشتہ طلاق کی صورت میں بکھر گیا۔
علیحدگی کے بعد امیرہ وقاص نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے نان و نفقہ، خلع اور اپنے 16 لاکھ روپے مالیت کے جہیز کی واپسی کا دعویٰ کیا۔ فیملی کورٹ نے ایک محتاط فیصلہ سناتے ہوئے شوہر کو نان و نفقہ کے ساتھ جہیز کی متبادل قیمت کا صرف 30 فیصد ادا کرنے کا حکم دیا۔ امیرہ مطمئن نہ تھیں، وہ اپیل میں گئیں۔ اپیلٹ کورٹ نے نہ صرف اضافہ مسترد کیا بلکہ مبینہ طور پر پہلے سے ملا ہوا 30 فیصد ریلیف بھی ختم کر دیا، یہ کہہ کر کہ خاتون شادی کے بعد بننے والے اثاثوں میں اپنی مالی شراکت ثابت نہیں کر سکیں۔
آخر کار یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچا، جہاں عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کر دیا اور فیملی کورٹ کو دو ماہ میں دوبارہ فیصلے کی ہدایت کی۔ عدالت نے یہ اہم اصول وضع کیا کہ جہیز اور ذاتی اشیاء بیوی کی مکمل ملکیت ہیں اور طلاق کی صورت میں شوہر ان کی مکمل واپسی یا متبادل قیمت ادا کرنے ک. ا پابند ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ انقلابی آبزرویشن دی کہ شادی کے بعد بننے والے اثاثے، چاہے وہ شوہر ہی کے نام پر کیوں نہ ہوں، انہیں “مشترکہ جائیداد” تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ بیوی بطور “ہوم میکر” شوہر کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باہر جا کر کما سکے اور اثاثے بنا سکے۔
انسانی معاشرت میں نکاح محض دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ ایک ایسی بنیاد ہے جس پر پورے خاندان کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن جب اس مقدس بندھن میں دراڑ آتی ہے، تو وہ صرف جذباتی ہی نہیں بلکہ قانونی اور معاشی طوفان بھی ساتھ لاتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے “امیرہ وقاص بنام وقاص رشید” کیس میں دیا گیا فیصلہ اسی نوعیت کی ایک بحث کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کے اس فیصلے نے جہاں خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ کی نئی جہتیں متعارف کروائی ہیں، وہی ہمارے خاندانی نظام، شرعی اصولوں اور عدالتی حدود کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
عدالت کا یہ نکتہ کہ عورت گھر سنبھال کر مرد کی معاشی ترقی میں معاون بنتی ہے، اخلاقی طور پر وزن رکھتا ہے، مگر کیا اسے ایک عمومی قانونکی شکل دی جا سکتی ہے؟ ہمارا معاشرہ ایک متنوع سماجی ڈھانچہ رکھتا ہے۔ یہاں ایسی بے شمار شادیاں موجود ہیں جو جبری طور پر یا محض خاندانی دباؤ میں طے پاتی ہیں، جہاں اکثر میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پہلے دن سے ہی مفقود ہوتی ہے۔ کئی صورتوں میں میاں بیوی عملی طور پر الگ الگ زندگیاں گزار رہے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان کوئی حقیقی معاشی یا جذباتی شراکت داری نہیں ہوتی۔
اگر قانون یہ پہلے سے یہ فرض کر لے کہ ہر عورت حق پر ہے اور ہر مرد ظالم، یا ہر عورت نے معاشی ترقی میں برابر کا حصہ ڈالا ہے، تو یہ انفرادی انصاف کے بنیادی اصول کے خلاف ہوگا۔ کیا یہ قانون ان خواتین پر بھی لاگو ہوگا جو خود صاحبِ ثروت ہیں یا شوہر سے زیادہ کما رہی ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر یہ قانونی توازن کے خلاف ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اسلامی قانون “میٹرومونیل پراپرٹی” کے حوالے سے خاموش ہے، اس لیے مصلحت اور اجتہاد کی گنجائش موجود ہے۔ یہیں سے ایک بڑا علمی سوال جنم لیتا ہے: کیا اجتہاد کا اختیار کسی ایک جج کو حاصل ہے یا یہ ریاست کے مروجہ اداروں کا منصب ہے؟
پاکستان کے آئین میں اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت جیسے ادارے اسی لیے بنائے گئے ہیں کہ وہ اسلامی اصولوں کی جدید تعبیر اور ابہام کی صورت میں رہنمائی فراہم کریں۔ اگر اسلام میں میاں بیوی کی جائیداد الگ الگ تصور کی جاتی ہے اور اسلام نے پہلے ہی مہر، نان و نفقہ اور وراثت کے ذریعے عورت کو مالی تحفظ دے رکھا ہے، تو اس میں کسی نئی “چوتھی شراکت” کا اضافہ کرنا ایک حساس مذہبی معاملہ ہے۔ عدالت کو چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل یا وفاقی شرعی عدالت کو ریفر کرتی، بجائے اس کے کہ ازخود “مجتہد” کا منصب سنبھال لے۔
ایک اور اہم نکتہ جو ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے، وہ وراثت کا معاملہ ہے۔ اسلام عورت کو باپ کی جائیداد میں حصہ دیتا ہے، مگر عموماً ہمارے ہاں بہنیں بھائیوں کے حق میں یا خاندانی دباؤ کے تحت اپنی وراثت معاف کر دیتی ہیں(اس میں بحث اپنی جگہ موجود ہے تاہم طوالت کی وجہ سے میں اس طرف نہیں جانا چاہتا )۔ وہ اپنی آبائی وراثت تو چھوڑ دیتی ہیں، لیکن طلاق کی صورت میں شوہر کے ان اثاثوں میں حصہ مانگتی ہیں جو اس نے اپنی محنت سے بنائے۔ خاوند کی وفات کے بعد وراثت میں اسے حصہ ملتا ہے . اگر ایک طرف ہم “پراپرٹی کی تقسیم” کا نیا اصول لانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف وراثت کے پرانے اور واضح حقوق کی پامالی پر خاموشی کیوں؟ یہ “آدھا تیتر آدھا بٹیر” والا معاملہ انصاف کے نظام کو کمزور کرتا ہے۔
عدالت نے حکومت کو قانون سازی کی سفارش کی ہے، جو کہ خوش آئند ہے کیونکہ ایسے حساس معاملات کا حل عدالتی آبزرویشنز کے بجائے پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ہونا چاہیے۔ پاکستان میں لوگ اپنے مسلک، فقہ اور مقامی روایات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ کسی بھی ایسے قانون کو جو خاندانی نظام کی جڑوں پر اثر انداز ہو، تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر نافذ کرنا معاشرتی تباہی کا راستہ کھول سکتا ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں “شادی” جو کہ ایک مقدس سماجی معاہدہ ہے، ایک “مالی پراجیکٹ” بن جاتی ہے۔ خلع اور طلاق کے مقدمات میں اصل توجہ مالی فوائد پر مرکوز ہو جائے گی، جس سے ازدواجی رشتوں میں باہمی اعتماد کی جگہ حساب کتاب لے لے گا۔ مغرب کی مثالیں دینا بھی یہاں اس لیے درست نہیں کیونکہ وہاں (شادی سے پہلے اثاثوں کی تقسیم کا فارمولا) اور ایک منظم معاشی ڈھانچہ موجود ہے، اگرچہ عدالت نے نکاح نامے میں یہ شق شامل کرنے کے حوالے بھی تجویز یا حکم نما تجویز دی ہے . تاہم یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہاں سماجی پیچیدگیاں بالکل مختلف ہیں۔ہمارے ہاں فیصلوں میں ذاتی اور جذباتی تجربات کی جھلک کے ساتھ ساتھ مغربی معاشرت کی بنیادوں کو سمجھے بغیر محض نتائج کو لیکر فیصلے نافذ کرنے کی اپروچ نئے مسائل پیدا کر رہی ہے .
خواتین کے حقوق کا تحفظ بلا شبہ وقت کی ضرورت ہے، اور امیرہ وقاص جیسے کیسز میں عورت کو اس کا جائز حق ملنا چاہیے۔ مگر اس کا حل “ون سائز فٹس آل” جیسے عمومی قوانین میں نہیں بلکہ انفرادی شواہد ، معاشرتی اور اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے قانون سازی میں ہے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ قانون کی تشریح کریں، مگر “قانون سازی” یا “اجتہاد” کا وہ کام نہ کریں جو پارلیمنٹ اور شرعی اداروں کا ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جو عورت کو تحفظ بھی دے اور مرد کے ساتھ زیادتی بھی نہ ہونے دے، تاکہ خاندان کا ادارہ معاہدوں کی بھینٹ نہ چڑھے۔
نوٹ: ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔