کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

August 22, 2026

دیر کی تحصیل دوبندون میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

August 22, 2026

سی ٹی ڈی پنجاب نے 9 شہروں میں کارروائیاں کر کے 18 دہشت گرد گرفتار کر لیے، بھاری اسلحہ اور بارودی مواد برآمد۔

August 22, 2026

بھارتی صحافی راجو پارولیکر نے بی جے پی حکومت میں ترقیاتی منصوبوں اور ٹھیکوں میں بھاری کمیشن کی نذر ہونے والے فنڈز کو بے نقاب کر دیا۔

August 22, 2026

چناب بیاس لنک ٹنل کیس کی سماعت 16 ستمبر کو ہو گی، حکومت سے عالمی فورمز پر رجوع کا مطالبہ۔

August 22, 2026

اقوام متحدہ کی 38ویں رپورٹ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور 2 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 22, 2026

آپریشن غضب لِلحق کے دور رس اثرات؛ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے
آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی۔ وزیرِ مملکت طلال چوہدری اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کا سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر اطمینان

March 28, 2026

آپریشن غضب لِلحق کے آغاز کے بعد خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد تک واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق رواں سال آپریشن سے قبل صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو مؤثر فوجی کاروائیوں کے بعد اب محض 80 تک رہ گئے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال کے نویں ہفتے میں دہشت گردی کے ریکارڈ 48 واقعات درج ہوئے تھے، جو آپریشن کے بارہویں ہفتے تک کم ہو کر صرف 12 رہ گئے ہیں۔

سرحد پار پناہ گاہوں کا خاتمہ

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا اس کامیابی کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں حملوں کے ماسٹر مائنڈز سمیت کئی خطرناک دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوا ہے اور ان کی کارروائی کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کاوشیں

چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے سکیورٹی صورتحال میں بہتری کا سہرا پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہترین کوآرڈینیشن کے سر باندھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اور صوبائی ادارے متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں دیرپا امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

August 22, 2026

دیر کی تحصیل دوبندون میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

August 22, 2026

سی ٹی ڈی پنجاب نے 9 شہروں میں کارروائیاں کر کے 18 دہشت گرد گرفتار کر لیے، بھاری اسلحہ اور بارودی مواد برآمد۔

August 22, 2026

بھارتی صحافی راجو پارولیکر نے بی جے پی حکومت میں ترقیاتی منصوبوں اور ٹھیکوں میں بھاری کمیشن کی نذر ہونے والے فنڈز کو بے نقاب کر دیا۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *