خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کر دیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

July 3, 2026

آپریشن غضب لِلحق کے دور رس اثرات؛ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے
آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی۔ وزیرِ مملکت طلال چوہدری اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کا سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر اطمینان

March 28, 2026

آپریشن غضب لِلحق کے آغاز کے بعد خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد تک واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق رواں سال آپریشن سے قبل صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو مؤثر فوجی کاروائیوں کے بعد اب محض 80 تک رہ گئے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال کے نویں ہفتے میں دہشت گردی کے ریکارڈ 48 واقعات درج ہوئے تھے، جو آپریشن کے بارہویں ہفتے تک کم ہو کر صرف 12 رہ گئے ہیں۔

سرحد پار پناہ گاہوں کا خاتمہ

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا اس کامیابی کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں حملوں کے ماسٹر مائنڈز سمیت کئی خطرناک دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوا ہے اور ان کی کارروائی کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کاوشیں

چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے سکیورٹی صورتحال میں بہتری کا سہرا پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہترین کوآرڈینیشن کے سر باندھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اور صوبائی ادارے متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں دیرپا امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *