"> دہشت گردی کے خلاف تازہ رپورٹ؛ کیا اقوام متحدہ کے ماہرین زمینی حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں؟ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف تازہ رپورٹ؛ کیا اقوام متحدہ کے ماہرین زمینی حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی رپورٹس، سیکیورٹی تجزیات اور سفارتی بیانات کو بھی ناکافی قرار دیا جائے تو پھر شواہد کا معیار کیا ہونا چاہیے؟
دہشت گردی کے خلاف تازہ رپورٹ؛ کیا اقوام متحدہ کے ماہرین زمینی حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں؟

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل مانیٹرنگ ٹیم کی متعدد رپورٹس، سگار کی رپورٹس، روسی وزارت خارجہ کے تجزیات، سی ایس ٹی او اور شنگھائی تعاون تنظیم کے جائزے مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔

April 5, 2026

چوبیس مارچ کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی حملوں کو افغانستان اور طالبان سے جوڑنے کے لیے “قابلِ اعتبار شواہد” پیش نہیں کیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف عالمی رپورٹس اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں، جس سے بین الاقوامی بیانیے میں تضاد واضح ہو رہا ہے۔

عالمی رپورٹس اور دستاویزی شواہد
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل مانیٹرنگ ٹیم کی متعدد رپورٹس، سگار کی رپورٹس، روسی وزارت خارجہ کے تجزیات، سی ایس ٹی او اور شنگھائی تعاون تنظیم کے جائزے مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق 13 ہزار سے 23 ہزار تک غیر ملکی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، جن میں 6 ہزار سے زائد ٹی ٹی پی کے عناصر شامل ہیں جو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہوں اور آپریشنل آزادی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سرحد پار حملوں اور علاقائی سلامتی کے خدشات
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستان میں ہونے والے 600 سے زائد حملوں کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق القاعدہ کی موجودگی، اس کی قیادت کی دوبارہ منظم ہونے کی کوششیں اور داعش خراسان (ISIL-K) کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں خطے کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جبکہ طالبان پر سہولت کاری اور معاونت کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

بیانیے میں تضاد اور اٹھتے سوالات
تجزیہ کاروں کے مطابق جب متعدد بین الاقوامی ادارے اور رپورٹس ایک ہی سمت میں اشارہ کر رہے ہوں تو اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کی جانب سے شواہد پر سوال اٹھانا ایک “سیلیکٹو اپروچ” معلوم ہوتا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ان ماہرین کی جانب سے انہی اداروں کی رپورٹس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جن کا وہ خود حصہ ہیں۔

سفارتی اور ادارہ جاتی ساکھ کا معاملہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی رپورٹس، سیکیورٹی تجزیات اور سفارتی بیانات کو بھی ناکافی قرار دیا جائے تو پھر شواہد کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ اس صورتحال نے نہ صرف بیانیے کی ساکھ بلکہ عالمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

موجودہ حالات میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا دستیاب بین الاقوامی شواہد کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے یا نہیں۔ اگر اس تضاد کو دور نہ کیا گیا تو خطے میں سیکیورٹی، سفارت کاری اور اعتماد سازی کے عمل پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *