"> ہارورڈ میں پاکستان کی سفارتی و معاشی کامیابیوں کا اعتراف، عالمی سطح پر پاکستان کی تعریف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ہارورڈ میں پاکستان کی سفارتی و معاشی کامیابیوں کا اعتراف، عالمی سطح پر پاکستان کی تعریف

ہارورڈ یونیورسٹی میں ‘پاکستان کانفرنس 2026’ کا انعقاد؛ عالمی ماہرین نے ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا، معاشی اصلاحات اور مستحکم خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار
ہارورڈ یونیورسٹی میں 'پاکستان کانفرنس 2026' کا انعقاد؛ عالمی ماہرین نے ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا، معاشی اصلاحات اور مستحکم خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار

ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس 2026 کی تفصیلات۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، حنا ربانی کھر اور معید یوسف کا خطاب۔ معاشی بحالی اور بھارتی تسلط پسندی کے خلاف پاکستان کا بیانیہ

April 14, 2026

امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں “پاکستان کانفرنس 2026” کے نام سے ایک عظیم الشان عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کی معیشت، خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اہم پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ کانفرنس میں پاکستان کے وفاقی وزراء، سابق حکام اور عالمی ماہرین سمیت نامور شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

بارہ اپریل 2026 کو منعقدہ اس سمپوزیم میں 700 سے زائد شرکاء اور 50 سے زائد مقررین نے 17 مختلف پینلز میں شرکت کی۔ شرکاء میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر معید یوسف سمیت میڈیا اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ ماہرہ خان اور فیصل کپاڈیا جیسی شخصیات شامل تھیں۔ اس کانفرنس نے ثابت کیا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے دلچسپی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

سفارتی کامیابیوں کا اعتراف

کانفرنس کے دوران ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والے جنگی بحران کو ٹالنے کے لیے پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کو بھرپور طریقے سے سراہا گیا۔ سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں سہولت کاری کر کے اپنی متوازن اور مستقبل پسند خارجہ پالیسی کا لوہا منوایا ہے۔ امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے بھی علاقائی کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

بھارتی تسلط پسندی اور علاقائی چیلنجز

پینل مباحثوں کے دوران ماہرین نے دو ٹوک انداز میں بھارت کی تسلط پسندانہ خارجہ پالیسی کو جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں اصل رکاوٹ قرار دیا۔ سابق مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کا رویہ علاقائی استحکام کو سبوتاژ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان پیچیدہ جغرافیائی حالات کے باوجود امن کے لیے کوشاں ہے۔

معاشی بحالی اور مستقبل کا سفر

معاشی ایجنڈے پر مبنی سیشن میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، ماہر اقتصادیات عاطف میاں اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر ڈاکٹر ڈیرون ایسیموگلو نے شرکت کی۔ پینل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی معیشت بحران سے باہر نکل چکی ہے اور مسلسل اصلاحات نے معاشی ترقی کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کر دی ہے۔ ڈاکٹر رضا باقر کی نظامت میں ہونے والے اس سیشن میں پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کے سفر کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *