"> پاکستان پر دوغلے کردار کا الزام، مگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں؟ کابل حکومت کے کردار پر سوالات - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان پر دوغلے کردار کا الزام، مگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں؟ کابل حکومت کے کردار پر سوالات

دہشت گردی کی سرپرستی: کابل آج ٹی ٹی پی، القاعدہ اور بی ایل اے سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی کو سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور اسلحہ پرمٹس تک میسر ہیں۔
دہشت گردی کی سرپرستی: کابل آج ٹی ٹی پی، القاعدہ اور بی ایل اے سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی کو سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور اسلحہ پرمٹس تک میسر

عالمی رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے ٹی ٹی پی کی قیادت کو گیسٹ ہاؤسز، اسلحہ پرمٹ، نقل و حرکت کے اجازت نامے اور گرفتاری سے استثنیٰ فراہم کر رکھا ہے۔ یہ براہِ راست تعاون ثابت کرتا ہے کہ طالبان انتظامیہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ ملی بھگت کر رہی ہے۔

May 13, 2026

افغان طالبان کے ترجمان قاری سعید خوستی کی جانب سے پاکستان پر ‘دوغلے کردار’ کے الزامات کے بعد ماہرین نے کابل حکومت کی اپنی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2021 کے بعد سے طالبان کی پوری حکمتِ عملی ‘اسٹریٹیجک دوغلے پن’ کی عکاس ہے، جہاں عالمی برادری کو دکھانے کے لیے سفارتی اعتدال کا لبادہ اوڑھا گیا ہے لیکن اندرونِ خانہ انتہا پسند ڈھانچے کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔

الزامات کی حقیقت

ماہرین کے مطابق طالبان کی جانب سے پاکستان پر تنقید دراصل اپنی داخلی اور خارجی ناکامیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہے۔ اصل ‘ڈبل گیم’ کابل میں کھیلا جا رہا ہے جہاں ایک طرف عوامی سطح پر اعتدال پسندی کے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

دوحہ معاہدے اور عسکریت پسندی

طالبان نے دوحہ معاہدے میں حقیقی بین الافغان مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا وعدہ کیا تھا، مگر انہوں نے مذاکرات کی میز کے بجائے طاقت کے زور پر عسکری قبضے کا راستہ منتخب کیا۔ امن عمل کے لیے رہا کیے گئے 5 ہزار قیدیوں نے دوبارہ ہتھیار اٹھائے اور کابل پر قبضے کی مہم کو تیز کیا، جو طالبان کی بدعہدی کا پہلا بڑا ثبوت تھا۔

دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ

طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان اس وقت ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ گروہ وہاں نہ صرف موجود ہیں بلکہ انہیں مکمل عملی آزادی حاصل ہے۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ

عالمی رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے ٹی ٹی پی کی قیادت کو گیسٹ ہاؤسز، اسلحہ پرمٹ، نقل و حرکت کے اجازت نامے اور گرفتاری سے استثنیٰ فراہم کر رکھا ہے۔ یہ براہِ راست تعاون ثابت کرتا ہے کہ طالبان انتظامیہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ ملی بھگت کر رہی ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف کاروائی

طالبان کا داعش کے خلاف لڑنا کسی اصول پر مبنی نہیں بلکہ صرف اس لیے ہے کیونکہ وہ ان کے اقتدار کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان مخالف گروہوں جیسے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بدستور محفوظ جگہ اور تمام تر سہولیات میسر ہیں، جو طالبان کے دہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارت سے قربت

طالبان حکومت ایک طرف پاکستان پر الزامات عائد کرتی ہے اور دوسری طرف خاموشی سے بھارت کے ساتھ ہم آہنگی اور قربت بڑھا رہی ہے۔ طالبان سے منسلک پروپیگنڈا مشینری مسلسل پاکستان کو نشانہ بناتی ہے، مگر افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

میڈیا پر بدترین جبر

طالبان نے میڈیا کی آزادی کا دعویٰ کیا تھا، مگر صرف 2026 کی پہلی سہ ماہی میں صحافیوں کی 256 من مانی گرفتاریاں، 130 تشدد کے واقعات اور 75 دھمکیوں کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ کابل میں آزادیِ اظہارِ رائے کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔

خواتین کی تعلیم پر پابندی

طالبان کے عالمی وعدے اس وقت فریب ثابت ہوئے جب انہوں نے 22 لاکھ سے زائد افغان لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کر دیا اور خواتین کو عوامی زندگی سے تقریباً خارج کر دیا۔ یہ رویہ ان کے اعتدال پسندی کے تمام دعووں کی نفی کرتا ہے۔

قندہار کی آمریت

طالبان خود کو افغانستان کا نمائندہ قرار دیتے ہیں، لیکن اقتدار صرف ‘قندہار شوریٰ’ اور سابق جنگجو کمانڈروں کے ایک محدود حلقے کے پاس ہے۔ طالبان حکومت ایک ذمہ دار ریاست کے بجائے اب بھی ایک مسلح شدت پسند گروہ کی ذہنیت کے تحت کام کر رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف طالبان کے الزامات ان کی اپنی منافقت کا عکس ہیں۔ اصل دہرا کھیل کابل کی سرزمین پر کھیلا جا رہا ہے، جہاں دہشت گردوں کو پناہ دے کر اور اپنے ہی عوام کو دبا کر خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *