"> افغانستان کے صوبے غزنی میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر شدید ڈرون حملے: نو آباد، قلعہ شہادہ اور بزازی کے علاقے لرز اٹھے؛ ذرائع کا دعوی - HTN Urdu افغانستان کے صوبے غزنی میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر شدید ڈرون حملے: نو آباد، قلعہ شہادہ اور بزازی کے علاقے لرز اٹھے؛ ذرائع کا دعوی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان کے صوبے غزنی میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر شدید ڈرون حملے: نو آباد، قلعہ شہادہ اور بزازی کے علاقے لرز اٹھے؛ ذرائع کا دعوی

بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ٹی ٹی پی کے ارکان نے ان علاقوں میں سکونت اختیار کی تھی، مگر ان مبینہ حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی کوئی باقاعدہ رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے متاثرہ مقامات کی ناکہ بندی کی بھی اطلاعات ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
غزنی

ایک حملہ بزازی کے تجارتی علاقے میں ہوا ہے جہاں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ خاندانوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔

May 13, 2026

غزنی: افغانستان کے صوبہ غزنی سے موصول ہونے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مختلف مقامات پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں جن میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے نوآباد اور قلعہ شہادہ کے علاقوں میں رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ غزنی شہر کے چھٹے سیکیورٹی ڈسٹرکٹ میں بھی فضائی کارروائی کی باتیں سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ اب تک کسی سرکاری سطح پر ان حملوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم مقامی سطح پر خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔

ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایک حملہ بزازی کے تجارتی علاقے میں ہوا ہے جہاں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ خاندانوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ٹی ٹی پی کے ارکان نے ان علاقوں میں سکونت اختیار کی تھی، مگر ان مبینہ حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی کوئی باقاعدہ رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے متاثرہ مقامات کی ناکہ بندی کی بھی اطلاعات ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

عینی شاہدین کے حوالے سے یہ رپورٹ کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی ہیڈ کوارٹرز کے قریب واقع دو مکانات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی نماز کے اوقات کے دوران ہوئی، تاہم افغان طالبان نے تاحال اس معاملے پر کسی قسم کا باقاعدہ موقف دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور مکمل تحقیق کے بعد ہی کوئی حتمی بیان جاری کیا جائے گا۔

غزنی میں ہونے والے ان واقعات کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عسکریت پسندوں کے خلاف جاری خفیہ کارروائیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر ان مبینہ حملوں کا مقصد سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے۔ فی الحال یہ تمام معلومات ابتدائی اور غیر مصدقہ ہیں، اور کسی بھی ملک یا گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے یا ان کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا ہے۔

دیکھئیے:افغان حکومت بھارت کی پراکسی بن چکی ہے، کابل کو دہلی جیسا ردعمل مل سکتا ہے، خواجہ آصف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *