"> بیجنگ سربراہی ملاقات: عالمی طاقتوں کے نئے توازن کی تشکیل یا عارضی سفارتی مفاہمت؟ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بیجنگ سربراہی ملاقات: عالمی طاقتوں کے نئے توازن کی تشکیل یا عارضی سفارتی مفاہمت؟

بیجنگ سربراہی ملاقات نے ایک ایسے دور کا آغاز کیا ہے جسے ہم “تعمیری مسابقت” کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کی چوبیس ستمبر کی دعوت پر صدر شی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ ان معاہدات پر مہرِ تصدیق ہوگی۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر تائیوان، انسانی حقوق اور سمندری حدود جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔
بیجنگ سربراہی ملاقات نے ایک ایسے دور کا آغاز کیا ہے جسے ہم "تعمیری مسابقت" کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کی چوبیس ستمبر کی دعوت پر صدر شی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ ان معاہدات پر مہرِ تصدیق ہوگی۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر تائیوان، انسانی حقوق اور سمندری حدود جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

اگر یہ دونوں طاقتیں مل کر کام کرتی ہیں، تو اکیسویں صدی معاشی خوشحالی اور تکنیکی ترقی کی صدی ہوگی، ورنہ ذرا سی غلط فہمی دنیا کو ایک ایسی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کا تصور بھی محال ہے۔

May 14, 2026

بیجنگ کے عظیم گریٹ ہال آف دی پیپل میں 14 مئی 2026 کو ہونے والی دو طرفہ ملاقات محض ایک سفارتی رسمی کاروائی نہیں تھی، بلکہ اسے اکیسویں صدی کے تزویراتی منظرنامے کا سب سے اہم موڑ قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی دو گھنٹے اور پندرہ منٹ کی اس طویل نشست نے ثابت کر دیا کہ عالمی سیاست میں مستقل کوئی دشمن نہیں ہوتا بلکہ مفادات کی تبدیلی رخ بدل دیتی ہے۔ اس سربراہی ملاقات کا مرکزی خیال “امریکی عظمت کی بحالی” اور “چینی ریاست کی تجدیدِ نو” کو ایک دوسرے کے متوازی چلانا تھا، جس نے عالمی سطح پر ایک نئی “تعمیری مسابقت” کی بنیاد رکھ دی ہے۔

تصادم سے شراکت داری تک

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں جس نئے تصور کی بات کی، وہ تزویراتی ماہرین کے لیے حیران کن بھی ہے اور خوش آئند بھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات دنیا کے اہم ترین دوطرفہ تعلقات ہیں اور ان میں محاذ آرائی پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ اس ملاقات کا سب سے بڑا حاصل “تھوسیڈائڈز ٹریپ” (طاقتور حریفوں کے ٹکراؤ کا نظریہ) کے تصور کو چیلنج کرنا تھا، جو یہ کہتا ہے کہ ابھرتی ہوئی طاقت اور پہلے سے موجود طاقت کے درمیان جنگ ناگزیر ہوتی ہے۔ ٹرمپ اور شی کے مابین اس ہم آہنگی نے ثابت کیا کہ دو بڑی طاقتیں دنیا کو ایک مستحکم دو قطبی نظام فراہم کر سکتی ہیں۔

فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے صدر شی کو “عظیم رہنماء” قرار دے کر یہ اشارہ دیا کہ وہ ذاتی سطح پر اعتماد سازی کو سفارت کاری کا کلیدی ستون مانتے ہیں۔

تائیوان اور سفارتی توازن

اس خوشگوار ماحول کے باوجود تائیوان کا مسئلہ ایک ایسی “سرخ لکیر” کے طور پر موجود رہا جسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ شینہوا اور چینی وزارتِ خارجہ کے اعلامیے کے مطابق صدر شی نے دو ٹوک الفاظ میں وارننگ دی کہ تائیوان پر کوئی بھی غلطی باقاعدہ تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔ یہاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (جنہیں چینیوں نے سفارتی جادوگری کے ذریعے ‘مارکو لو’ کے نام سے خوش آمدید کہا) کا کردار اہم رہا۔ این بی سی نیوز کے مطابق روبیو نے واضح کیا کہ امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو اس بات کی غمازی ہے کہ فی الحال دونوں طاقتیں اس حساس معاملے پر “خاموش جمود” برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔

معاشی انضمام اور ٹیکنالوجی

معاشی اعتبار سے یہ دورہ کسی بڑے انقلاب سے کم نہیں۔ العربیہ اور دی گارڈین کی رپورٹوں کے مطابق بیجنگ نے امریکی کمپنیوں کے لیے اپنے دروازے مزید کھولنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایلون مسک، ٹم کک اور جینسن ہوانگ جیسے ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں کی وفد میں موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ “رسد کی زنجیر” (سپلائی چین) کا مستقبل اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہا۔

  • اینویڈیا کی کامیابی: امریکہ کی جانب سے دس چینی کمپنیوں کو جدید چپس کی فروخت کی اجازت دینا ایک تزویراتی رعایت ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ تجارتی جنگ اب سرد پڑ رہی ہے۔
  • سرمایہ کاری: بوئنگ کے بڑے آرڈرز اور توانائی کے شعبے میں تعاون عالمی منڈیوں میں ڈالر اور یوآن کے استحکام کا باعث بنے گا۔

عالمی بحران اور آبنائے ہرمز

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے آفیشل اعلامیے نے دنیا کو ایک بڑا اطمینان فراہم کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ “آبنائے ہرمز” کو توانائی کی ترسیل کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔ الجزیرہ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق چین کا ایران سے تیل کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کرنا اور تہران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے پر اتفاق، واشنگٹن کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑا سیکیورٹی ریلیف ہے۔ اسی طرح یوکرین کے حوالے سے بھی یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ بیجنگ اب ماسکو پر اپنا اثر و رسوخ امن کے لیے استعمال کرے گا۔

مصنوعی ذہانت

اس دورے کا ایک خاموش مگر انتہائی اہم پہلو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے لیے عالمی ضابطوں پر گفتگو تھی۔ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اور اس کے اخلاقی ضوابط امریکا اور چین مل کر طے کریں گے۔ یہ شراکت داری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال عالمی امن کو خطرے میں نہ ڈالے۔

جنوبی ایشیا اور پاکستان

پاکستان کے لیے یہ دورہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے اسلام آباد پر “بلاک پولیٹکس” (گروہ بندی کی سیاست) کے انتخاب کا شدید دباؤ تھا۔ امریکہ اور چین کے قریبی تعلقات سے پاکستان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کو مزید فعال کرے اور ساتھ ہی امریکی سرمایہ کاری کو بھی خوش آمدید کہے۔ اس کے برعکس، بھارت جو کہ امریکا کے لیے چین کے متبادل کے طور پر ابھرا تھا، اسے اب اپنی تزویراتی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

تاریخ کا امتحان

بیجنگ سربراہی ملاقات نے ایک ایسے دور کا آغاز کیا ہے جسے ہم “تعمیری مسابقت” کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کی چوبیس ستمبر کی دعوت پر صدر شی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ ان معاہدات پر مہرِ تصدیق ہوگی۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر تائیوان، انسانی حقوق اور سمندری حدود جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

اگر یہ دونوں طاقتیں مل کر کام کرتی ہیں، تو اکیسویں صدی معاشی خوشحالی اور تکنیکی ترقی کی صدی ہوگی، ورنہ ذرا سی غلط فہمی دنیا کو ایک ایسی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کا تصور بھی محال ہے۔ بیجنگ سے اٹھنے والی یہ لہریں اب پوری دنیا کے ساحلوں پر محسوس کی جا رہی ہیں، اور انسانیت ایک بہتر مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *