"> مشرقِ وسطیٰ جنگ بندی: ایرانی وزیرِ خارجہ کا پاکستان پر اعتماد، بھارت کو سفارتی دھچکا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ جنگ بندی: ایرانی وزیرِ خارجہ کا پاکستان پر اعتماد، بھارت کو سفارتی دھچکا

ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ ماہرین نے ایران پر ممکنہ حملوں کی صورت میں عالمی معیشت اور سپلائی چینز کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ ماہرین نے ایران پر ممکنہ حملوں کی صورت میں عالمی معیشت اور سپلائی چینز کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال میں پاکستان کا امن ساز کردار برقرار۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا نئی دہلی میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار، جسے بھارت کے لیے شدید سفارتی ہزیمت قرار دیا جا رہا ہے۔

May 17, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ غیر یقینی جنگ بندی کے ماحول میں کچھ جنگ پسند عناصر اور متعدد ناقدین کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز، جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ان عناصر کا دعویٰ ہے کہ ایران کی بنیادی تنصیبات، بجلی گھروں، پانی، تیل اور صنعتی اہداف پر نئی اور شدید بمباری کر کے اسے جھکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، دفاعی حلقوں میں یہ مؤقف بھی زیرِ بحث ہے کہ یہ جنگ بندی محض ایک عارضی وقفہ ہے تاکہ فریقین اور خلیجی ممالک آئندہ برپا ہونے والے کسی زیادہ ہولناک معرکے کی بھرپور تیاری کر سکیں۔

پاکستان کی دور اندیشی

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ، خونریزی اور تباہی پھیلانا ہمیشہ نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر اس قیامت خیز اور بارود سے بھرپور ماحول میں امن، تحمل اور توقف پیدا کرنا حقیقی ریاستی بصیرت اور اسٹریٹجک دانش کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان نے اس پورے بحران میں یہی مدبرانہ کردار ادا کیا ہے اور مسلسل کر رہا ہے۔ پاکستان ناصرف جذباتی عناصر کو زمینی حقائق کا آئینہ دکھا رہا ہے بلکہ ان قوتوں کو بھی چیلنج کر رہا ہے جو اپنے مخصوص مفادات کے لیے پورے خلیجی خطے کو آگ کے الاؤ میں جھونکنا چاہتی ہیں۔

نئی مہم جوئی کے ہولناک عالمی اثرات

ذرا تصور کیجیے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں جوابی کارروائیاں کیں، تو اس کے نتائج موجودہ عارضی جنگ بندی کے مقابلے میں کس قدر ہولناک ہوں گے۔ اس صورتحال میں توانائی کی عالمی منڈیاں کریش کر جائیں گی اور دنیا برسوں پر محیط شدید معاشی کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی سپلائی چینز ایک دہائی تک مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔

مزید برآں، ترقی پذیر ممالک میں ترسیلاتِ زر کا گراف خطرناک حد تک گر جائے گا، مسلمان ممالک آپس میں تقسیم ہو جائیں گے، مسلم دنیا جذباتی نعروں میں الجھ جائے گی اور سعودی عرب سمیت مقدس مقامات کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور اس کی قیادت اسی تباہ کن راستے کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے۔

پاکستانی بیانیے کو مسخ کرنے کی کوششیں

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ بعض مخالف عناصر مختصر جملوں، نامعلوم ذرائع اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کے اس تعمیری بیانیے کو مسخ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، کیونکہ یہاں کسی کے عارضی مفادات نہیں بلکہ خطے کی زندگی اور موت کا معاملہ درپیش ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے اندر افغان سرزمیں سے سرگرم بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز کی حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جن کا مقصد پاکستان کو ایک غیر مستحکم ملک کے طور پر پیش کرنا ہے، حالانکہ پاکستان اس وقت پوری دنیا کے بڑے مسائل کو حل کرنے میں ایک مصروف اور اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے۔

نئی دہلی میں ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

پاکستان کی اسی علاقائی سفارت کاری کی ایک مضبوط اور بین الاقوامی توثیق اس وقت سامنے آئی جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں ناکام نہیں ہوئیں بلکہ وہ محض عارضی چیلنجز کے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے امن عمل کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اپنے خصوصی اعتماد اور کھلی حمایت کا اظہار کیا، جسے میزبان ملک بھارت کے لیے ایک واضح اور بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کے اس مؤقف نے خطے میں پاکستان کی حیثیت ایک قابلِ اعتماد اور ناگزیر امن ساز ملک کے طور پر مزید مضبوط کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ برکس سربراہی اجلاس بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث کسی واضح کامیابی کے بغیر ختم ہوا، جبکہ ایران کا پاکستان پر یہ غیر متزلزل اعتماد اسلام آباد کی کامیاب سفارت کاری اور نئی دہلی کی کمزور ہوتی علاقائی حکمتِ عملی کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *