پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیریںہ دوستی وقت کے ساتھ ایک مضبوط اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، جو علاقائی امن، عالمی استحکام اور ترقی پذیر دنیا کے مفادات کے تحفظ کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر قومی اسمبلی کے خصوصہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تاریخی موقع پر قومی اسمبلی نے پاک چین لازوال دوستی کے اعتراف میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی ہے۔
خطے میں امن کے لیے سفارتی کردار
نائب وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران خطے کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی خصوصی دعوت پر 31 مارچ کو بیجنگ کا اہم دورہ کیا تھا، جہاں تفصیلی مشاورت کے بعد خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا گیا، جسے عالمی سطح پر درجنوں ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بھی انتہائی مثبت اور متوازن کردار ادا کیا اور خطے کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے اپنے سفارتی رابطے مسلسل جاری رکھے۔
سی پیک فیز ٹو اور اقتصادی ترقی
محمد اسحاق ڈار نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے پاکستان کی معیشت کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سی پیک کا تصور 2013 کے عام انتخابات کے بعد اس وقت سامنے آیا تھا جب میاں نواز شریف کی قیادت میں وہ خود اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کا دورہ کر کے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے چینی قیادت سے تعاون مانگا تھا، جس پر چین نے پاکستان کی بے مثال مدد کی۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سماجی و اقتصادی شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ اس کے ثمرات براہِ راست عام شہری تک پہنچ سکیں۔
قومی اسمبلی کی تاریخی قرارداد
دوسری جانب، قومی اسمبلی نے پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر ایک متفقہ اور تاریخی قرارداد منظور کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین قائم ‘آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ’ سے مکمل وابستگی کا اعادہ کیا گیا۔ قرارداد میں چین کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل قانون ساز حمایت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
ایوان نے چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین مسٹر کائی دافنگ اور ان کے وفد کی پارلیمنٹ میں آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پارلیمانی سفارت کاری کو دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون قرار دیا۔ خطبے کے اختتام پر نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین کے دوران اس تاریخی سالگرہ کی باقاعدہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔