"> پاک چین تعلقات کے 75 سال؛ اسحاق ڈار کا خطاب، قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاک چین تعلقات کے 75 سال؛ اسحاق ڈار کا خطاب، قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

اسحاق ڈار نے پاک چین تعلقات کے 75 سال پر خطاب میں شراکت داری کو عالمی استحکام کے لیے اہم قرار دیا، قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کی۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کی شراکت داری کو عالمی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے، جبکہ ایوان نے اس تاریخی موقع پر ایک متفقہ تعریفی قرارداد بھی منظور کی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی اب مضبوط اقتصادی و تزویراتی شراکت داری بن چکی ہے، جبکہ قومی اسمبلی نے 75 سالہ تعلقات پر سی پیک سمیت تعاون کے عزم کی متفقہ قرارداد منظور کی۔

May 20, 2026

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیریںہ دوستی وقت کے ساتھ ایک مضبوط اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، جو علاقائی امن، عالمی استحکام اور ترقی پذیر دنیا کے مفادات کے تحفظ کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر قومی اسمبلی کے خصوصہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تاریخی موقع پر قومی اسمبلی نے پاک چین لازوال دوستی کے اعتراف میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی ہے۔

خطے میں امن کے لیے سفارتی کردار

نائب وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران خطے کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی خصوصی دعوت پر 31 مارچ کو بیجنگ کا اہم دورہ کیا تھا، جہاں تفصیلی مشاورت کے بعد خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا گیا، جسے عالمی سطح پر درجنوں ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بھی انتہائی مثبت اور متوازن کردار ادا کیا اور خطے کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے اپنے سفارتی رابطے مسلسل جاری رکھے۔

سی پیک فیز ٹو اور اقتصادی ترقی

محمد اسحاق ڈار نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے پاکستان کی معیشت کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سی پیک کا تصور 2013 کے عام انتخابات کے بعد اس وقت سامنے آیا تھا جب میاں نواز شریف کی قیادت میں وہ خود اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کا دورہ کر کے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے چینی قیادت سے تعاون مانگا تھا، جس پر چین نے پاکستان کی بے مثال مدد کی۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سماجی و اقتصادی شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ اس کے ثمرات براہِ راست عام شہری تک پہنچ سکیں۔

قومی اسمبلی کی تاریخی قرارداد

دوسری جانب، قومی اسمبلی نے پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر ایک متفقہ اور تاریخی قرارداد منظور کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین قائم ‘آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ’ سے مکمل وابستگی کا اعادہ کیا گیا۔ قرارداد میں چین کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل قانون ساز حمایت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

ایوان نے چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین مسٹر کائی دافنگ اور ان کے وفد کی پارلیمنٹ میں آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پارلیمانی سفارت کاری کو دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون قرار دیا۔ خطبے کے اختتام پر نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین کے دوران اس تاریخی سالگرہ کی باقاعدہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *