"> آزاد کشمیر میں حکومتی ریلیف کے باوجود ہڑتال کی کال اور مہاجر نشستوں پر وار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

حکومتی ریلیف کے باوجود ہڑتال کی کال؛ مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کشمیر کاز پر وار

حکومتِ آزاد کشمیر کے ریلیف پیکیج اور ترقیاتی اقدامات کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون ہڑتال کال اور 12 مہاجر نشستوں کے خلاف مہم نے ان کے مقاصد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
حکومتِ آزاد کشمیر کے ریلیف پیکیج اور ترقیاتی اقدامات کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون ہڑتال کال اور 12 مہاجر نشستوں کے خلاف مہم نے ان کے مقاصد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

آزاد کشمیر میں مطالبات کی منظوری اور معاوضوں کی ادائیگی کے باوجود جے اے اے سی کی ہڑتال کال کو سیاسی دکانداری قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کشمیر کاز کے خلاف اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

May 23, 2026

مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مطالبات، مہنگائی، بجلی کے بلوں اور بنیادی سہولیات سے متعلق تحفظات کے پس منظر میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر حکومتی سطح پر تیز رفتار اور عملی پیش رفت کے باوجود جے اے اے سی کی قیادت کی جانب سے 9 جون 2026 کو دوبارہ ہڑتال کی کال نے ریاست کے سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب مطالبات پر عملدرآمد ہو رہا ہے اور عوام کو اربوں روپے کا ریلیف دیا جا چکا ہے، تو مسلسل احتجاج اور تصادم کی یہ سیاست عوامی حقوق کے بجائے ذاتی ایجنڈے، انتخابی دباؤ اور سیاسی دکانداری کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔

دستیاب سرکاری تفصیلات کے مطابق حکومتی سطح پر اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لی جا چکی ہیں، جبکہ مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو مجموعی طور پر 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، 5کے ڈبلیو ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نافذ کر کے سرچارجز ختم کر دیے گئے ہیں اور بجلی کے بقایاجات کو 36 آسان اقساط میں تقسیم کیا گیا ہے۔ منگلا ڈیم منصوبے سے متعلق بجلی کے بقایاجات بھی معاف کیے جا چکے ہیں، جبکہ صحت کارڈ کی سہولت کا دائرہ کار تمام کشمیری عوام تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

انتظامی اور ترقیاتی شعبوں میں کی جانے والی اصلاحات کے تحت محکموں کی تعداد کو محدود کر کے 22 اور کابینہ کا حجم 20 وزراء تک کم کیا گیا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں میں داخلوں اور ملازمتوں میں اوپن میرٹ پالیسی نافذ العمل ہے۔ ترقیاتی شعبے میں 5.5 ارب روپے کے ایم آر آئی (MRI) اور سی ٹی اسکین منصوبے، 2.8 ارب روپے کا ہسپتال اپ گریڈیشن پروگرام اور بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے کے منصوبے شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ نیلم ویلی اور کہوٹہ آزاد پتن روڈ کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز اور متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں بھی مختلف عملی مراحل جیسے پی سی ون، سی ڈی ڈبلیو پی منظوریوں اور ٹینڈرنگ میں داخل ہو چکی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فزیبلٹی اسٹڈیز اور قانونی منظوریاں تکنیکی اور وقت طلب مراحل ہوتے ہیں، مگر شوکت نواز، سردار عمر اور امان اللہ پر مشتمل جے اے اے سی کی قیادت انہیں جان بوجھ کر “حکومتی ناکامی” بنا کر پیش کر رہی ہے تاکہ سادہ لوح عوام کو گمراہ کر کے جذبات بھڑکائے جا سکیں۔

اس طرزِ عمل سے عام کشمیری مزدور، تاجر، طالب علم اور مریض شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ احتجاجی قیادت سیاسی شہرت اور میڈیا توجہ سمیٹنے میں مصروف ہے۔ سب سے خطرناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ ایکشن کمیٹی اب آئینی معاملات اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر بات کر رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے پوشیدہ مقاصد ابتدائی عوامی مطالبات سے بالکل مختلف ہیں۔

اس احتجاجی سیاست کا دوسرا اور حساس ترین رخ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 12 مہاجر نشستوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ہے۔ یاد رہے کہ یہ 12 نشستیں محض ایک انتخابی بندوبست نہیں، بلکہ مسئلہ کشمیر کے اس تاریخی، سیاسی اور اخلاقی تسلسل کی علامت ہیں جس کی بنیاد حقِ خودارادیت اور اقوامِ متحدہ کے تحت استصوابِ رائے کے اصول پر قائم ہے۔

یہ نشستیں پاکستان میں مقیم مقبوضہ جموں و کشمیر کے پناہ گزینوں کی نمائندگی کرتی ہیں، جو بھارتی جبر کے باعث ہجرت پر مجبور ہوئے لیکن ریاست کے مستقبل سے سیاسی طور پر وابستہ ہیں۔

شوکت نواز میر، سردار عمر نذیر، سردار امان اور خواجہ مہران جیسے رہنماؤں کی جانب سے ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ براہِ راست کشمیر کاز کی سیاسی ساخت پر وار ہے۔ جے اے اے سی نے 2025 میں بھی ان نشستوں کو نشانہ بنا کر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی تھی، جو اب دوبارہ دہرائی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مہم تین سطحوں پر نقصان دہ ہے؛ یہ مہاجر کشمیریوں کو سیاسی طور پر کمزور کرتی ہے، آزاد و مقبوضہ کشمیر کا تاریخی رشتہ دھندلا کرتی ہے، اور استصوابِ رائے کے اس مؤقف پر ضرب لگاتی ہے جس میں پوری ریاست کے عوام کو فیصلے کا حق حاصل ہے۔

اسٹریٹجک جائزوں کے مطابق جے اے اے سی کا یہ بیانیہ پاکستان کے کشمیر پر آئینی، سیاسی اور اخلاقی مؤقف کے مقابل ایک خطرناک اور گمراہ کن مہم ہے، جو کشمیری وحدت میں دراڑ ڈال کر ان قوتوں کو سفارتی سہولت فراہم کر رہا ہے جو مسئلہ کشمیر کو منتشر دیکھنا چاہتی ہیں۔ عام شہریوں کا بھی یہ ماننا ہے کہ مہاجر نشستوں پر حملے سے نہ تو بجلی کے بل کم ہوں گے اور نہ ہی آٹا سستا ہوگا، بلکہ یہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی قربانیوں کی نفی کے مترادف ہے۔

آزاد کشمیر کے غیور عوام کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امن، روزگار اور ترقی کے سفر کے ساتھ کھڑے ہیں یا ان چند خود غرض عناصر کے ساتھ جو کشمیر کے مستقبل کو اپنی ذاتی سیاست کا ایندھن بنانا چاہتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *