"> کوئٹہ ٹرین حملہ؛ لاپتہ بلال شاہوانی خودکش بمبار نکلا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کوئٹہ ٹرین حملہ؛ لاپتہ قرار دیا جانے والا بلال شاہوانی خودکش بمبار نکلا

کوئٹہ ٹرین حملے کے خودکش بمبار بلال شاہوانی کا مفرور پس منظر سامنے آنے کے بعد عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو ورغلا کر لاپتہ افراد کے جھوٹے بیانیے کے تحت استعمال کرنے کا گھناؤنا کھیل بے نقاب ہو گیا ہے۔
کوئٹہ ٹرین حملے کے خودکش بمبار بلال شاہوانی کا مفرور پس منظر سامنے آنے کے بعد عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو ورغلا کر لاپتہ افراد کے جھوٹے بیانیے کے تحت استعمال کرنے کا گھناؤنا کھیل بے نقاب ہو گیا ہے۔

کوئٹہ ٹرین خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد بلال شاہوانی کی اصل حقیقت سامنے آ گئی۔ والد کی جانب سے بیٹے کے لاپتہ ہونے کے دعوے اور پریس کانفرنس کا ڈرامہ وقت نے بری طرح فلاپ کر دیا۔

May 24, 2026

کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مسافر ٹرین پر ہونے والے حالیہ ہولناک خودکش حملے کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور چشم کشا انکشاف سامنے آیا ہے۔ مانیٹرنگ سیل اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ٹرین پر معصوم شہریوں کا خون بہانے والے دہشت گرد کی شناخت بلال شاہوانی کے نام سے ہوئی ہے، جسے چند ماہ قبل تک اس کے خاندان اور مخصوص پروپیگنڈا نیٹ ورکس کی جانب سے “مظلوم اور لاپتہ” بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔

والد کی پریس کانفرنس

حکومتی اور دستاویزی ریکارڈ کے مطابق، رواں سال 22 فروری کو دہشت گرد بلال شاہوانی کے والد عبدالعلی شاہوانی نے اپنے دیگر اہلخانہ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کی تھی۔ اس دوران انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا بیٹا دوستوں کے ساتھ “پکنک منانے گیا” تھا جہاں سے وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا۔ پریس کانفرنس میں خاندان نے ریاستی اداروں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ بیٹے کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم، حالیہ ٹرین حملے میں اس کی براہِ راست شمولیت اور خودکش بمبار کے طور پر سامنے آنے نے اس پورے بیانیے کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔

انسانیت دشمنی

سیاسی و دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جسے معصوم اور زبردستی اٹھایا گیا شہری ظاہر کر کے دھرنے اور مظاہرے کیے جا رہے تھے، وہ دراصل کالعدم تنظیم بی ایل اے کے عسکری کیمپوں میں معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کے خون سے کھیلنے کی سفاکانہ تیاری کر رہا تھا۔ عسکری ماہرین کے مطابق، یہ دہشت گرد نہ صرف اپنے ہاتھ بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگتے ہیں بلکہ اپنے بوڑھے ماں باپ، خاندان اور پورے غیور بلوچ معاشرے کو بھی عالمی سطح پر رسوا کر جاتے ہیں۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو بے قصور سمجھ کر ڈھونڈتا رہا، جبکہ وہ بیٹا اندر ہی اندر انسانیت کا جلاد بن چکا تھا۔

پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب

اس واقعے نے بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں اور ان کے پشت پناہوں کے اس مخصوص طریقہ کار کو ایک بار پھر ننگا کر دیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو جھوٹے نعروں، نفرت اور زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے ورغلا کر پہاڑوں پر پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے اہلخانہ سے پریس کانفرنسز کروا کر “لاپتہ افراد” کا شور مچایا جاتا ہے اور جب وہی نوجوان خودکش حملوں میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر مارے جاتے ہیں، تو انہی لاشوں پر مظلومیت کا ڈرامہ رچا کر سیاسی اور مالی مفادات حاصل کیے جاتے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حقوق کے نام پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ایسے تمام عناصر کا محاسبہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *