"> فلم زومبیڈ تنازع اور مطیع اللہ جان کی ٹویٹ پر تنقید
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

فلم زومبیڈ پر مطیع اللہ جان کی ٹویٹ مسترد، فرضی منظر کو صوبائی رنگ دینے کی کوشش پر تنقید

فلم زومبیڈ کے فرضی منظر کو مطیع اللہ جان کی جانب سے صوبائی رنگ دینے پر مبصرین نے اسے تفریحی صنعت کو نقصان پہنچانے کا حربہ قرار دیا ہے۔
فلم زومبیڈ کے فرضی منظر اور مطیع اللہ جان

فلم زومبیڈ کے علامتی منظر پر مطیع اللہ جان کی ٹویٹ کو ماہرین نے سنسر بورڈ سے منظور شدہ تخلیق کے خلاف سنسنی خیزی اور تعصب پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

May 30, 2026

پاکستانی فلمی صنعت کی نئی ہارر کامیڈی اور زومبی سروائیول تھرلر فلم زومبیڈ کے ایک فرضی منظر کو صحافی مطیع اللہ جان کی جانب سے غیر ضروری طور پر نسلی اور صوبائی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے. فلمی ناقدین اور مبصرین کے مطابق، اس تنقید میں فلم کے وسیع تناظر اور اس کے خالص تخلیقی مقصد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

فلم کو محض تفریح کے لیے بنایا گیا ہے، نہ کہ کسی سیاسی بیانیے یا کسی مخصوص صوبے، ثقافت اور برادری کے خلاف مہم کے طور پر. خود فلم دیکھنے والے متعدد ناظرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں فلم میں کوئی بھی قابلِ اعتراض بات نظر نہیں آئی، بلکہ ایک فرضی ترتیب کو بلاوجہ تعصب کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے.

مبالغہ آرائی اور توازن

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہارر کامیڈی اور زومبی طرز کی فلمیں عموماً مبالغے، سیاہ مزاح، فرضی خوف اور علامتی مناظر پر مبنی ہوتی ہیں. ایسے میں کسی ایک علامتی منظر کو صوبائی نفرت سے جوڑنا تنقید نہیں بلکہ غیر ضروری تاویل اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے. اطلاعات کے مطابق، فلم سازوں نے فلم میں مختلف علاقائی موسیقی، دھنوں اور ثقافتی حوالوں کو شامل کر کے ایک گلدستہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

ایسے میں صرف ایک منظر کو الگ کر کے پیش کرنا فلم کے اصل مقصد کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا کرتا ہے. خود اعتراض اٹھانے والے صحافی نے بھی اپنی گفتگو میں یہ اعتراف کیا کہ فلم نے دوسری دھن کے ذریعے توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جو ان کے اپنے ہی الزامات کو کمزور کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ کسی خطے کو نشانہ نہیں بنایا گیا.

قانونی عمل اور منظوری

اس تنازع کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ فلم زومبیڈ کو متعلقہ فلم سنسر بورڈ نے مکمل جائزے، اسکریننگ اور ضروری قانونی عمل کے بعد اکثریتی منظوری کے ساتھ پی جی کیٹیگری میں کلیئر کیا ہے. سنسر بورڈ میں اعلیٰ پیشہ ور افراد بیٹھے ہیں، جن میں اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا (کے پی) سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی فلم میں کسی صوبے، نسل یا ثقافت کی کوئی توہین یا نسلی منافرت موجود ہوتی، تو بورڈ کے ارکان اس پر بروقت اعتراض اٹھاتے اور اسے سنسر کرتے. بورڈ کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا پر “تیلی” لگانے کی کوشش اصلاح کے لیے نہیں بلکہ مخصوص ایجنڈے کے تحت کی جا رہی ہے.

دہرا معیار اور پروپیگنڈا

تبصرہ نگاروں نے اس طرزِ عمل کے دہرے معیار کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے. یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ ایسی نام نہاد ثقافتی حساسیت اُس وقت بالکل دکھائی نہیں دیتی جب پڑوسی دشمن ملک کی پاکستان مخالف فلمیں اور پروپیگنڈا پروڈکشنز پاکستانی شناخت، ریاست اور ہمارے قومی اداروں کو نشانہ بناتی ہیں۔

ان مواقع پر ان خود ساختہ مبصرین کی حساسیت سو جاتی ہے، مگر جب پاکستان کی اپنی تخلیقی صنعت مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے اور نئے موضوعات پر تجربات کرنے کی کوشش کرے، تو فوراً آدھے سیاق و سباق اور اشاروں کنایوں کے ذریعے ایک نیا تنازع کھڑا کر کے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے.

من گھڑت بیانیے کی روک تھام

سفارتی اور سماجی ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ فلم کا وہ فرضی منظر نہیں بلکہ وہ مخصوص ذہنیت ہے جو ایک سنیماٹک لمحے کو سماجی تقسیم اور پولرائزیشن پیدا کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے. ان عناصر کا پرانا فارمولا ہے کہ پہلے ابہام اور شک پیدا کرو، پھر اسے کسی صوبے کے ساتھ جوڑ کر اشتعال پھیلاؤ اور پھر اپنی آؤٹ ریج اکانومی چلاؤ. صحافت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر چیز میں سیاست اور تعصب تلاش کیا جائے.

اگر کوئی حقیقی اعتراض ہو تو مناسب فورمز پر بات ہونی چاہیے. اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے زور دیا ہے کہ دانستہ طور پر گمراہ کن تشریحات، آدھی سچائیوں اور سوشل میڈیا سنسنی خیزی کے ذریعے نسلی یا صوبائی نفرت بھڑکانے والے عناصر کی روک تھام کے لیے، مکمل قانونی تقاضوں کے تحت ایک واضح قانونی فریم ورک موجود ہونا چاہیے تاکہ ملک کو مصنوعی اشتعال اور صوبائی شرانگیزی سے بچا کر اتحاد اور ذمہ دارانہ مکالمے کی طرف لے جایا جا سکے.

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *