"> بھارت کا دریائے چناب پر نئے پن بجلی منصوبے کا یکطرفہ فیصلہ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دریائے چناب پر بھارت کا ایک اور یکطرفہ اقدام؛ 260 میگاواٹ کے نئے پن بجلی منصوبے کی منظوری

بھارت نے سفارتی ذمہ داریوں کی معطلی کے دوران دریائے چناب پر نئے پن بجلی منصوبے کی یکطرفہ منظوری دے دی ہے۔ اضافی سرنگوں اور ذخیرہ جاتی ڈھانچوں پر مبنی یہ توسیعی اقدام پاکستان کے آبی و زرعی تحفظ کے لیے ایک منظم تزویراتی خطرہ ہے۔
بھارت نے دریائے چناب پر 260 میگاواٹ کے دلہستی اسٹیج-II منصوبے کی منظوری دے دی، جس پر پاکستان کے آبی تحفظ اور زرعی استحکام سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر نئے پن بجلی پراجیکٹ کی یکطرفہ منظوری اور پاکستان کے آبی تحفظ و زرعی استحکام پر اس کے سنگین اثرات کی خصوصی رپورٹ۔

May 30, 2026

سندھ طاس معاہدے کے تحت تعاون پر مبنی سفارتی ذمہ داریوں کی معطلی کے ماحول میں، بھارت نے بالائی علاقوں میں پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی مسلسل توسیع کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے دریائے چناب پر ایک اور متنازع منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ بھارت کی ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے تحت قائم ماحولیاتی جائزہ کمیٹی نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں 260 میگاواٹ کے اس نئے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو گرین سگنل دے دیا ہے، جس کی مجموعی مالیت 3,277.45 کروڑ بھارتی روپے بتائی گئی ہے۔ تزویراتی ماہرین کے مطابق یہ اقدام بالائی آبی ڈھانچے کو ہتھیار بنانے کی بھارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو پاکستان کے لیے آبی تحفظ، ہائیڈرولوجیکل شفافیت اور زرعی استحکام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر رہا ہے۔

اراضی پر قبضہ

تکنیکی دستاویزات کے مطابق اس نئے توسیعی اقدام کے تحت پہلے سے موجود دلہستی پاور اسٹیشن (اسٹیج-1) سے پانی کو 8.5 میٹر قطر اور 3,685 میٹر طویل ایک علیحدہ ڈائیورژن سرنگ کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں دوسرے مرحلے کے لیے ایک ہارس شو طرز کا ذخیرۂ آب (پونڈیج) تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے میں اس ذخیرۂ آب کے علاوہ ایک سرج شافٹ، پریشر شافٹ اور زیرِ زمین پاور ہاؤس بھی شامل ہوگا، جس میں 130 میگاواٹ کے دو یونٹس نصب کیے جائیں گے۔ اس وسیع عسکری و معاشی اثرات کے حامل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کل 60.3 ہیکٹر اراضی درکار ہوگی، جس میں بینزوار اور پالمار دیہات کی 8.27 ہیکٹر نجی زمین پر بھی قبضہ کیا جائے گا۔

زیریں علاقوں کے بہاؤ پر کنٹرول

دفاعی اور آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے چناب پر اضافی سرنگوں، ذخیرہ جاتی ڈھانچوں اور بہاؤ کو منظم کرنے والے اس انفراسٹرکچر کا انضمام نئی دہلی کی اس صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرتا ہے کہ وہ زیریں علاقوں (پاکستان) میں پانی کے بہاؤ کو اپنی مرضی کے مطابق متاثر کر سکے۔ یہ صورتحال پاکستان میں فصلوں کی منصوبہ بندی، آبپاشی کی پیش گوئی اور طویل المدتی زرعی استحکام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہے، جو براہِ راست ملک کی زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کے لیے ایک منظم خطرہ ہے۔ مغربی دریاؤں پر مناسب معلوماتی اشتراک کے بغیر پانی کے ان نئے منصوبوں کا یہ پھیلاؤ سندھ طاس آبپاشی نظام پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کی سماجی و معاشی کمزوریوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

بھارتی ہتھکنڈہ

رپورٹ کے مطابق، بھارت اہم ہائیڈرولوجیکل معلومات کی بروقت فراہمی روک کر اور تکنیکی شفافیت میں رکاوٹیں ڈال کر خطے کے استحکام اور منصفانہ آبی انتظام کے لیے ضروری معاہداتی اور ادارہ جاتی نظام کو دانستہ طور پر کمزور کر رہا ہے۔ چناب پر تعمیر ہونے والا یہ تازہ ترین پراجیکٹ اس امر کی واضح مثال ہے کہ رن آف دی ریور نوعیت کا انفراسٹرکچر جب غیر تعاون پر مبنی آبی پالیسیوں اور دوطرفہ معاہداتی ذمہ داریوں کی یکطرفہ معطلی کے ساتھ منسلک ہو جائے، تو وہ ایک جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تعاون پر مبنی قانونی فریم ورک کو یکطرفہ تکنیکی اقدامات سے تبدیل کرنے کی یہ بھارتی چال پاکستان کے معاشی تحفظ، ماحولیاتی توازن اور خودمختار آبی حقوق کے لیے ایک طویل المدتی خطرہ ہے۔

غیر ذمہ دارانہ رویہ

آبی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ دور میں جہاں خطہ پہلے ہی موسمیاتی دباؤ، گلیشیئرز کے پگھلنے اور بڑھتی ہوئی آبی قلت کے بحران سے گزر رہا ہے، مشترکہ دریائی نظاموں کے حوالے سے بھارت کا ایسا یکطرفہ طرزِ عمل علاقائی آبی تحفظ اور پائیدار آبی نظم و نسق کے لیے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی قوانین مشترکہ دریاؤں پر بالائی ممالک کو زیریں ممالک کے حقوق کا احترام کرنے کا پابند کرتے ہیں، تاہم نئی دہلی کا یہ جارحانہ رویہ خطے میں آبی سیاست کی کشیدگی کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *