افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری اقدامات کرے: پاکستان

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں کئی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے: پاکستان

عاصم افتخار کا سلامتی کونسل سے خطاب: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور بی ایل اے جیسے گروہ اب بھی خطرہ ہیں۔

August 6, 2026

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں اب بھی کئی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔

ان کے مطابق یہ گروہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغان سرزمین کسی بھی دہشتگرد گروہ کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

انہوں نے بتایا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں کئی تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ ان میں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ، داعش خراسان، القاعدہ سے وابستہ گروہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ شامل ہیں۔

پاکستانی مندوب کے مطابق یہ دہشتگرد گروہ افغانستان سے بھرتی، تربیت اور منصوبہ بندی کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی جانب سے مالی اور دیگر معاونت بھی حاصل ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ ہفتے سوات میں ٹی ٹی پی کے خودکش حملے میں 16 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے۔

داعش خراسان کا خطرہ

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کی مؤثر کارروائیوں سے داعش خراسان کو دھچکا ضرور پہنچا ہے۔ تاہم افغانستان میں اس تنظیم کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک سرحد پار خطرہ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون، سرحدی نظم و نسق، اداروں کی استعداد کار میں اضافہ اور مالی معاونت روکنا ناگزیر ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

سفیر عاصم افتخار نے بتایا کہ دہشتگرد تنظیمیں ڈرونز، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل والٹس اور کرپٹو کرنسی جیسے جدید ذرائع استعمال کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت کو پابند بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشتگرد گروہ کے خلاف استعمال نہ ہو، جبکہ ان کے سرپرستوں کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

مقبوضہ کشمیر

اپنے خطاب میں پاکستانی مندوب نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی ہے۔

انہوں نے بھارتی اقدامات کو ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال قرار دیا۔ ان کے بقول عالمی برادری کو ہر قسم کی دہشتگردی، بشمول ریاستی دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانا ہوگی۔

عاصم افتخار نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوہرے معیار سے بالاتر ہو کر جامع اور کثیرالجہتی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس عالمی کوشش میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

دیکھیے: لکی مروت میں آپریشن 11 گرج، افغان شہری سمیت 3 خوارج ہلاک

متعلقہ مضامین

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

November 4, 2026

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

November 4, 2026

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *