نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان (این آر ایف) اور اتحادی مزاحمتی فورسز نے طالبان حکومت کی سرپرستی میں موجود تمام غیر ملکی جنگجوؤں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کا حتمی انتباہ جاری کر دیا ہے۔
مزاحمتی گروہوں کے مطابق افغان سرزمین پر غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے اور افغانستان صرف افغان عوام کا ملک ہے۔
مزاحمتی محاذ نے واضح کیا ہے کہ جو غیر ملکی عناصر اس حکم پر عمل نہیں کریں گے، انہیں دشمن جنگجو تصور کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت عسکری اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے مختلف اضلاع میں طالبان مخالف مزاحمتی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
مزاحمتی گروہوں کا الزام ہے کہ طالبان حکومت نے افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور آپریشنل مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی القاعدہ، ٹی ٹی پی، داعش خراسان، ای ٹی آئی ایم اور آئی ایم یو جیسے خطرناک گروہوں کی افغانستان میں موجودگی کی مسلسل تصدیق کی جا رہی ہے۔
این آر ایف کے مطابق طالبان نے ان عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے بجائے انہیں بھرتی، عسکری تربیت اور سرحد پار تخریبی کارروائیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔ طالبان کی پالیسیوں، شریعت کی من مانی تشریح، سیاسی شمولیت کے فقدان اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے عوام میں شدید ناراضی پیدا کر دی ہے۔
اس داخلی ناراضی کے باعث بڑی تعداد میں افغان شہری اور نوجوان مزاحمتی گروہوں کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ عسکری سرگرمیوں کا دائرہ کار اب صرف پنجشیر اور اندراب تک محدود نہیں رہا بلکہ بدخشان، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور کابل تک پھیل چکا ہے۔
طالبان حکومت کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج ملک کے اندر سے ابھرنے والی یہ منظم مزاحمت بنتی جا رہی ہے، جہاں شہری غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔