شیخ حسینہ واجد اپنے بیٹے سجیب واجد جوئے کو سیاسی منظرنامے میں آگے لا کر خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس دوران پسِ پردہ سیاسی معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوشش بھی جاری ہے۔
بنگلہ دیش کے عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد وہ ایک نئے پیکج کے ساتھ وہی پرانا سیاسی طریقہ کار دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پاکستان مخالف بیانیہ
اپنی سابقہ کارکردگی کا دفاع کرنے میں ناکامی کے بعد حسینہ کیمپ ایک بار پھر پاکستان مخالف بیانیے کا سہارا لے رہا ہے۔ اسے حب الوطنی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شیخ حسینہ آئی ایس آئی اور پاکستان پر من گھڑت الزامات عائد کر کے دراصل بھارت کے مزید قریب ہونا چاہتی ہیں تاکہ نئی دہلی کی حمایت حاصل کر کے اپنا سیاسی وجود برقرار رکھ سکیں۔ تاہم بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ بنگلہ دیش بھی اب بدل چکا ہے۔
تاہم بنگلہ دیش بدل چکا ہے۔ عوام اب مصنوعی بیرونی خطرات یا پرانے سیاسی نعروں سے متاثر ہونے کے لیے تیار نہیں۔
شیخ حسینہ کو اپنے سیاسی مسائل کا ذمہ دار پاکستان یا آئی ایس آئی کو ٹھہرانے کے بجائے ان برسوں کا جواب دینا چاہیے۔ ان برسوں میں سیاسی اختلاف رائے کو دبانے، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آتے رہے۔
اس دوران پاکستان کا غیر جانب دار ذکر بھی جرم تصور کیا جاتا تھا۔ واضح رہے کہ شیخ حسینہ ایک سزا یافتہ مجرم ہیں۔
اصل سوالات ان کی اپنی سیاسی وراثت اور ماضی کی حکمرانی سے متعلق ہیں، نہ کہ کسی بیرونی فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوششوں سے۔