ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے حق میں 3 بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ آن آربیٹریری ڈیٹینشن میں درخواست دائر کیے جانے پر قانونی ماہرین نے واضح ردِعمل دیا ہے۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی درخواست کی دائرگی سے نہ تو کسی فرد کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی ریاست پر کوئی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
قانون دانوں کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست کی آراء قانونی طور پر لازمی یا پابند نوعیت کی نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی حیثیت محض سفارشی اور مشاورتی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی فورمز پر صرف مبینہ حراست کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے، جن سے ملکی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
پاکستان کی معتبر عدالتوں کے فیصلوں کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد کے خلاف ملکی آئین و قانون کے مطابق مقدمہ چلایا گیا ہو اور عدالت دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ دے چکی ہو، تو اسے چیلنج کرنے کا واحد قانونی راستہ ملکی عدالتی نظام میں اپیل دائر کرنا ہے۔ بیرونی تنظیموں کی درخواستیں پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کو خودبخود کالعدم یا غیر مؤثر نہیں کر سکتیں۔
ماہرینِ قانون نے مزید نشاندہی کی کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں عموماً حقوق کے مخصوص خدشات پر توجہ دیتی ہیں، مگر وہ مقدمات کے قانونی، سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور امنِ عامہ کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتیں۔ اس لیے کسی بھی معاملے کا غیر جانبدارانہ جائزہ سوشل میڈیا بیانات یا یک طرفہ بیانیے کے بجائے مکمل شواہد، عدالتی ریکارڈ، کارروائی اور سیکیورٹی حقائق کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جانا چاہیے۔