"> ہری پور: آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، کے پی حکومت پر تنقید
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ہری پور: زیادتی کے بعد قتل کی گئی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

معصوم بچی کی عدم بازیابی اور صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات نے خیبرپختونخوا انتظامیہ پر شدید عوامی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ہری پور: آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا،

خیبرپختونخوا میں لاپتہ بچی کی بروقت بازیابی میں ناکامی پر عوام کا شدید ردعمل، صوبائی حکومت کی ترجیحات اور انتظامی غفلت پر تنقید۔

August 25, 2026

خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی پانچ سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں ہزاروں سوگواروں اور مقامی افراد نے بھرپور شرکت کی۔ نمازِ جنازہ پیر کو کھاد فیکٹری گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جہاں علاقے بھر سے آئے شہریوں نے معصوم بچی کے غم میں اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور فضا سوگ کی کیفیت میں ڈوبی رہی۔

آیت نور تقریباً دو ہفتے قبل پٹھان کالونی میں اپنے گھر کے قریب سے لاپتہ ہوئی تھی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھاتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا، جبکہ تفتیش کے دوران بچی کی لاش یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک کنویں سے برآمد ہوئی۔

ملزمان کی گرفتاری

پولیس کے مطابق کیس میں اب تک پانچ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں بیشتر کی عمریں 16 سال سے کم ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے بچی کو اغوا کرکے قریبی گراؤنڈ لے جانے اور مبینہ زیادتی کا اعتراف کیا، تاہم لاش کو کنویں میں پھینکے جانے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

بچی کی گمشدگی کے دوران اس کے والد کی جانب سے مدد اور بچی کی بازیابی کے لیے کی گئی اپیل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جبکہ واقعے کے خلاف علاقے میں احتجاج بھی کیا گیا۔

حکومتی ردِعمل پر سوالات

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس تو لیا، تاہم قریب دو ہفتے تک لاپتہ بچی تک رسائی حاصل نہ ہونے اور بروقت بازیابی نہ ہو پانے پر صوبائی حکومت کی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حساس کیسز میں تیز رفتار کارروائی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

اس واقعے پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ اور سرگرمیاں ایک قیدی سے متعلق معاملات کے گرد مرکوز رہیں، جس کے باعث معصوم بچی کی بروقت بازیابی ممکن نہ ہو سکی۔ اس صورتحال پر خیبرپختونخوا حکومت کو شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *