"> پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق، حکومتی اقدامات اور اہم اعداد و شمار

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، حکومتی اقدامات اور اہم اعداد و شمار سامنے آگئے

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی، قانونی اور حکومتی اقدامات کی تفصیلات سامنے آگئیں، جن میں مذہبی آزادی، سیاسی نمائندگی اور تعلیم شامل ہیں۔
اقلیتوں کے حقوق

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق، حکومتی اقدامات اور اہم اعداد و شمار

September 4, 2026

جنیوا میں اقوام متحدہ کے یو این ایچ سی آر کے 63 ویں اجلاس سے قبل پاکستان نے ملک میں اقلیتوں کے حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔

جس کے مطابق پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت کرنے اور مذہبی آزادی کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔

ملک میں اس وقت اقلیتوں کی ہزاروں عبادت گاہیں قائم ہیں، جن میں 2,189 چرچ، 732 ہندو مندر اور 58 سکھ گردوارے شامل ہیں۔

اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سینیٹ میں 4، قومی اسمبلی میں 10 اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں کل 23 نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔

وفاقی خدمات میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد نوکریوں کا کوٹہ مقرر ہے، جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے 2,000 سے زائد اقلیتی افسران مختلف سرکاری شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے، جس کی سربراہی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے چیلا رام کیولانی کر رہے ہیں۔

ایک تعلیمی پالیسی کے تحت ابتدائی سطح پر 7 غیر مسلم برادریوں کے لیے ان کے اپنے عقائد کے مطابق الگ نصاب تیار کیا گیا ہے۔

حکومت نے اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ کی شرح دگنی کرنے کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں اینڈومنٹ فنڈز کا بھی قیام عمل میں لایا ہے۔

قومی سطح پر اقلیتوں کے مذہبی تہواروں جیسے ہولی، دیوالی اور ایسٹر پر سرکاری چھٹیاں دی جاتی ہیں اور تمام پولیس محکمہ جات سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔

مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے کرتار پور صاحب راہداری کا افتتاح، شوالہ تیجا مندر اور گوردوارہ چوآ صاحب کی بحالی سمیت گندھارا کنکلیو جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔

قانون سازی کے میدان میں ہندو میرج ایکٹ 2017 اور پنجاب سکھ میرج ایکٹ کا نفاذ ممکن بنایا گیا ہے۔

جبرًا تبدیلیِ مذہب کے تدارک کے لیے پاکستان ہندو کونسل اور علماء کے درمیان واضح طریقہ کار اور معاہدہ طے پایا ہے۔

پشاور اور پنجاب میں سکھ برادری کے تحفظ کے لیے خصوصی سی سی ٹی وی کیمرے، انٹیلی جنس نگرانی اور کوئیک ریسپانس ٹاسک فورسز قائم کی گئی ہیں۔

توہینِ مذہب کے قوانین کے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے علماء کو متحرک کیا گیا ہے اور تمام مقدمات میں غیر جانبدارانہ عدالتی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق 2005 سے توہینِ مذہب پر سزا پانے والوں میں 79 فیصد مسلمان اور 21 فیصد اقلیتی افراد ہیں، جبکہ زیرِ سماعت مقدمات میں غیر مسلموں کا تناسب صرف 11 فیصد ہے۔

اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے آسیہ بی بی اور دیگر کی بریت اس بات کا ثبوت ہے کہ اقلیتوں کو شفاف سماعت اور اپیل کا کامل حق حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *