"> پاک بھارت جنگ

پاک بھارت جنگ

پانچ ستمبر 1965 کو پاک فوج اخنور کے اسٹریٹیجک پل کے قریب پہنچی تو بھارتی عسکری قیادت میں کھلبلی مچ گئی۔ اس پیش قدمی نے بھارت کو 6 ستمبر کو بین الاقوامی سرحد پر حملہ کرنے پر مجبور کیا۔
پاک بھارت جنگ

پانچ ستمبر 1965 کو اخنور محاذ پر پاک فوج کی پیش قدمی اور بھارتی حکمتِ عملی پر اس کے اثرات کا تحریری جائزہ، جس نے 6 ستمبر کی ہمہ گیر جنگ کی بنیاد رکھی۔

September 6, 2026

جنگ کے صرف پانچ دن گزرے تھے، مگر نقشہ بدل چکا تھا۔ اخنور اب محض نقشے پر ایک مقام نہیں رہا تھا؛ پاک فوج کے دستے اس کی اسٹریٹیجک شہ رگ، اخنور پل، کے قریب پہنچ چکے تھے۔ سوال یہ نہیں رہا تھا کہ پاک فوج اخنور تک پہنچ سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ تھا کہ اسے روکنے کے لیے بھارت اگلا قدم کیا اٹھائے گا؟

اگر 4 ستمبر کو جوڑیاں کی فتح نے پاک فوج کو اخنور سے محض 18 کلومیٹر دور لا کھڑا کیا تھا، تو 5 ستمبر وہ دن تھا جب یہ فاصلہ اور بھی سمٹ گیا۔ جنگ کے پانچویں روز پاک فوج اس مقام تک پہنچ چکی تھی جہاں سے اخنور کا اسٹریٹیجک پل اب دور کا خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول ہدف دکھائی دینے لگا تھا۔

پانچ ستمبر کی صبح میدانِ جنگ میں گزشتہ چار دنوں کی نسبت ایک مختلف کیفیت تھی۔ چھمب سے جوڑیاں تک کا سفر طے کرنے کے بعد پاکستانی دستوں نے اپنی گزشتہ کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور اخنور کی سمت پیش قدمی جاری رکھنے پر توجہ مرکوز کی۔ توپ خانے نے دشمن کے دفاعی ٹھکانوں پر دباؤ برقرار رکھا، جبکہ پیادہ اور بکتر بند دستے مربوط انداز میں آگے بڑھتے رہے۔ پاک فضائیہ بھی محاذ پر نگرانی اور معاونت کے ذریعے زمینی کارروائیوں کا حصہ بنی رہی۔

اخنور کا پل اپنی جغرافیائی اور عسکری اہمیت کے باعث اس پورے محاذ کا مرکزی ہدف بن چکا تھا۔ اس پر کنٹرول بھارتی افواج کے لیے کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً وادیِ کشمیر اور راجوڑی پونچھ کے درمیان زمینی رابطے کو متاثر کر سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستانی پیش قدمی نے بھارتی عسکری قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی مزید تیز کر دی۔

بھارتی مغربی کمان کے سربراہ جنرل ہربخش سنگھ کی تشویش بھی اب محض خدشے تک محدود نہیں رہی تھی۔ بھارتی قیادت کے سامنے یہ سوال موجود تھا کہ اگر اخنور کا رابطہ متاثر ہو گیا تو کشمیر میں موجود بھارتی فوجی پوزیشن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ چنانچہ ایک محاذ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا جواب دوسرے محاذ پر دینے کا فیصلہ قریب آتا گیا۔

پھر 6 ستمبر کی صبح جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ بھارت نے بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے پاکستانی پنجاب پر حملہ کر دیا اور یوں وہ جنگ، جو بنیادی طور پر کشمیر کے محاذ پر مرکوز تھی، ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو گئی۔

میری نظر میں 5 ستمبر 1965 کو صرف ایک فوجی پیش قدمی کے دن کے طور پر دیکھنا اس کی اصل اہمیت کو محدود کر دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اخنور کا ہدف پاکستانی منصوبہ بندی میں انتہائی قریب آ چکا تھا، مگر اسی وقت جنگ کی سمت بھی بدلنے والی تھی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ میدانِ جنگ میں ایک کامیابی ہمیشہ اپنے آپ میں حتمی فتح نہیں ہوتی؛ اس کے نتائج سیاسی فیصلوں، دوسرے محاذوں، وسائل اور مجموعی جنگی حکمتِ عملی سے جڑے ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک 5 ستمبر کی اصل اہمیت یہی ہے کہ یہ 1965 کی جنگ کا وہ نازک موڑ تھا جہاں پاک فوج ایک اہم اسٹریٹیجک ہدف کے قریب تھی، جبکہ بھارت جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اگلی صبح نے ثابت کر دیا کہ اخنور کی دہلیز پر پہنچنے والی یہ پیش قدمی جنگ کے اگلے باب کو جنم دینے والی تھی۔

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *