افغانستان: مغربی کابل میں خاتم النبیین مدرسے کو خالی کرنے کے حکم کے خلاف شیعہ برادری نے ہفتے کی شام شدید احتجاج کیا۔ طالبان جنگجوؤں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ متعدد شہریوں اور شیعہ علما کو حراست میں لے لیا۔
مذہبی ادارے کی منتقلی کی مخالفت پر طاقت کے اس استعمال نے اقلیتی برادریوں کے خلاف جاری دباؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
اعتراض شیعیان غرب کابل به تخلیه حوزه علمیه خاتمالنبیین
— Aamaj News (@aamajnews_24) September 5, 2026
شماری از باشندگان غرب کابل و شیعیان شامگاه شنبه در اعتراض به دستور طالبان برای تخلیه حوزه علمیه خاتمالنبیین تجمع کردند. ویدیوهای منتشرشده از برخورد خشونتبار جنگجویان طالبان با معترضان و بازداشت شماری از آنان حکایت دارد.… pic.twitter.com/qUEmnD5GSx
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شیعہ برادری کو تعلیمی اور مذہبی سطح پر سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔
اسکولوں میں فقہ جعفری کی تعلیم پر پابندی عائد ہے اور صوبائی علما کونسلوں سے بھی شیعہ علما کو منہا کر دیا گیا ہے۔ زیادہ تر شیعہ ہزارہ آبادی کو جبری بے دخلی، جائیدادوں پر قبضے، غیر قانونی ٹیکس اور جسمانی تشدد جیسے مسائل درپیش ہیں۔
موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ طالبان حکومت اقلیتی برادریوں کے مطالبات کو مذاکرات کے بجائے فورسز کے ذریعے دبا رہی ہے۔
شیعہ برادری کو فرقہ وارانہ تشدد سے مؤثر تحفظ نہ ملنے اور براہ راست پابندیوں سے مذہبی آزادی کی گنجائش مسلسل سکڑ رہی ہے۔
دیکھیے: نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 1301 ہوگئیں، 5339 افراد تاحال لاپتہ