سوات میں 9 سالہ ایشمل کے قتل نے خیبر پختونخوا میں خواتین اور بچوں کے تحفظ، پولیس کارکردگی اور نظامِ انصاف پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

September 18, 2026

بلوچستان: ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

September 18, 2026

جمائما گولڈ اسمتھ نے 22 سال بعد آسٹریلوی فنانسر کیمرون او ریلی سے دوسری شادی کر لی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

September 18, 2026

طالبان حکومت نے حوثیوں سے رابطہ کر کے سعودی عرب پر حملے تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

September 18, 2026

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 17 دہشت گرد ہلاک جبکہ 6 جوان شہید ہوگئے۔

September 18, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔

September 18, 2026

ایشمل سے آیت نور تک: کیا خیبر پختونخوا میں بچیوں کا تحفظ محض ایک خواب بن گیا؟

سوات میں 9 سالہ ایشمل کے قتل نے خیبر پختونخوا میں خواتین اور بچوں کے تحفظ، پولیس کارکردگی اور نظامِ انصاف پر نئے سوالات اٹھا دیے۔
سوات میں ایشمل کا قتل، خیبر پختونخوا میں بڑھتے سوالات

سوات میں 9 سالہ ایشمل کے قتل کے بعد خیبر پختونخوا میں خواتین اور بچوں کے تحفظ، پولیس کارکردگی اور انصاف کے نظام پر سوالات اٹھ گئے۔

September 18, 2026

سوات کے مدین میں نو سالہ بچی ایشمل کے مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل نے پورے علاقے کو سوگ اور غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق بچی کو ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنے گھر لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں گولی مار کر قتل کر دیا۔ پولیس نے واقعے کے الزام میں سلطان محمد کو گرفتار کر لیا ہے اور مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کیا گیا ہے۔

ایشمل یتیم اور دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے قتل کے بعد مدین، مینگورہ اور مٹہ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جہاں خواتین، بچوں، طلبہ، وکلا اور سول سوسائٹی کے افراد نے سڑکوں پر نکل کر انصاف کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ صرف ملزم کی گرفتاری کافی نہیں۔ تحقیقات شفاف اور تیز رفتار ہونی چاہییں، شواہد محفوظ کیے جائیں اور اگر جرم ثابت ہو تو ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ شہریوں نے بچوں کے تحفظ، پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔

بعض مظاہرین نے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 شامل کرنے اور خصوصی تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

سوال صرف سوات تک محدود نہیں

ایشمل کا قتل خیبر پختونخوا میں خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک بڑے سوال کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔ رواں سال ایبٹ آباد میں پانچ سالہ آیت نور کے مبینہ ریپ اور قتل کا واقعہ بھی سامنے آیا۔ بچی 10 اگست کو گھر کے باہر سے لاپتہ ہوئی تھی، جبکہ 24 اگست کو اس کی لاش ایک غیر استعمال شدہ کنویں سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے کیس میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے ایک کی نشاندہی پر لاش برآمد ہوئی۔

پشاور میں بھی خواتین سے متعلق جنسی تشدد کے واقعات نے تشویش پیدا کی۔ ایک کیس میں دو خواتین کے مبینہ اجتماعی ریپ کے الزام میں گرفتار ملزمان کو پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ بعد ازاں طبی رپورٹ میں دونوں خواتین پر جنسی تشدد کی تصدیق ہوئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ جنسی تشدد کے مقدمات میں شفاف تفتیش، عدالتی کارروائی اور متاثرین کے حقوق کو کس حد تک یقینی بنایا جا رہا ہے۔

جب شکایت درج کرانا بھی ایک آزمائش بن جائے

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خیبر پختونخوا میں خواتین اور بچیوں کے خلاف جرائم ہو رہے ہیں۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ کتنی خواتین پولیس اور نظامِ انصاف تک پہنچ ہی پاتی ہیں؟

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 258 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے، لیکن پورے سال میں صرف ایک کیس میں سزا ہوئی۔ اس حساب سے سزا کی شرح تقریباً 0.39 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں صنفی تشدد کے صرف تقریباً 30 فیصد واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ تقریباً 70 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔

یہ 70 فیصد محض ایک عدد نہیں۔ اس کے پیچھے وہ خواتین ہیں جو تھانے تک جانے سے ڈرتی ہیں، وہ خاندان ہیں جو بدنامی کے خوف سے خاموش رہتے ہیں، اور وہ متاثرین ہیں جنہیں خدشہ ہوتا ہے کہ مقدمہ درج کرانا خود ایک طویل، ذلت آمیز اور خطرناک عمل بن سکتا ہے۔

اعداد و شمار حکومت کے لیے آئینہ ہیں

دستیاب اعداد و شمار خیبر پختونخوا میں جنسی تشدد کے مقدمات کے کمزور انجام کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 2019 سے 2023 کے دستیاب عرصے کے دوران صوبے میں ریپ کے 1,122 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان مقدمات میں عدالتوں کے سامنے پیش ہونے والے ملزمان میں سے بڑی تعداد بری ہوئی، جبکہ سزا پانے والوں کی تعداد نہایت کم رہی۔

گزشتہ سال کی رپورٹ نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کیا۔ ایک سال میں 258 ریپ کیسز کا رپورٹ ہونا اور صرف ایک سزا کا سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے یا ملزم گرفتار ہونے کے بعد بھی متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا سفر ختم نہیں ہوتا، بلکہ اصل آزمائش وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

اگر تقریباً 70 فیصد صنفی تشدد کے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے تو سرکاری اعداد و شمار مسئلے کی مکمل تصویر بھی نہیں دکھاتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی تعداد رپورٹ شدہ کیسز سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

یہاں حکومت سے سوال بنتا ہے: کتنی خواتین کو پولیس نے بروقت تحفظ دیا؟ کتنے مقدمات میں شواہد درست طریقے سے جمع کیے گئے؟ کتنے ملزمان کو سزا ہوئی؟ اور کتنے خاندان آج بھی انصاف کے انتظار میں ہیں؟

صحت کا بحران بھی احتجاج تک پہنچ گیا

خیبر پختونخوا میں مسئلہ صرف امن و امان اور خواتین کے تحفظ تک محدود نہیں۔ صحت کا شعبہ بھی مسلسل بحران کا شکار ہے۔

پشاور میں ینگ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے نے تنخواہوں، الاؤنسز، سروس اسٹرکچر اور کام کے حالات سے متعلق مطالبات پر احتجاج کیا۔ بعض احتجاجوں کے دوران آپریشنز ملتوی ہوئے، مریض متاثر ہوئے اور اسپتالوں کی معمول کی خدمات میں خلل پڑا۔

ڈاکٹروں کا مؤقف ہے کہ حکومت ان کے مسائل کے مستقل حل کے بجائے وقتی یقین دہانیوں سے کام چلا رہی ہے۔ دوسری جانب مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر احتجاج پر ہوں تو غریب شہری علاج کے لیے کہاں جائیں؟

تقریباً 13 برس کی حکمرانی

پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں 2013 سے مختلف ادوار میں اقتدار میں رہی ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت بھی پی ٹی آئی کی ہے۔ اس طویل سیاسی موجودگی کے باوجود صوبے میں صحت، تعلیم، ترقیاتی منصوبوں، پولیس، خواتین کے تحفظ اور انتظامی کارکردگی پر سوالات مسلسل موجود ہیں۔

صوبائی حکومت کے لیے یہ کہنا کافی نہیں کہ ایک ملزم گرفتار کر لیا گیا یا ایک تحقیقاتی ٹیم بنا دی گئی۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایسا نظام کب قائم ہوگا جس میں جرم ہونے سے پہلے بچوں اور خواتین کو تحفظ حاصل ہو، پولیس متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہو اور عدالتوں میں مقدمات برسوں تک زیرِ التوا نہ رہیں۔

جون 2026 میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان نے ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتار اور نامکمل منصوبوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض ارکان نے اعتراض کیا کہ گزشتہ سال کے منصوبے مکمل کیے بغیر نئے منصوبے بجٹ میں شامل کیے جا رہے ہیں اور کم رقوم مختص ہونے کے باعث کئی منصوبوں کی تکمیل مشکل دکھائی دیتی ہے۔

صوبے کے شہریوں کا سوال یہ ہے کہ اگر برسوں سے ایک ہی سیاسی جماعت مختلف ادوار میں حکومت کر رہی ہے تو بنیادی مسائل اب بھی کیوں برقرار ہیں؟ سڑکیں، اسپتال، اسکول، پولیس اسٹیشن، خواتین کے تحفظ کے مراکز اور انصاف کا نظام عوام کو کب عملی طور پر مضبوط نظر آئے گا؟

خواتین کے حقوق سے متعلق رپورٹس میں خیبر پختونخوا سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں پولیس کے رویے، متاثرین کو دباؤ میں لانے، مقدمات واپس لینے پر مجبور کرنے، بااثر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر اور بعض اہلکاروں پر رشوت کے الزامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایک متاثرہ عورت اپنے ساتھ ہونے والے جرم کی شکایت درج کرانے کے لیے بھی محفوظ محسوس نہ کرے تو ریاست اسے تحفظ کیسے دے گی؟

حکومت کی توجہ صوبے پر یا اسلام آباد پر؟

دوسری جانب صوبائی حکومت کی سیاسی سرگرمیوں میں وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج نمایاں ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے 13 اگست کو ضلع خیبر میں بابِ خیبر سے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کیا۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق اس تحریک کا مقصد عمران خان کی رہائی اور طاقتور و کمزور کے لیے یکساں قانون کا نفاذ ہے۔

سیاسی احتجاج جمہوری سیاست کا حصہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صوبے کے اندر موجود مسائل بھی اتنی ہی سیاسی توانائی، وقت اور توجہ حاصل کر رہے ہیں؟

جب سوات میں ایک نو سالہ بچی کے قتل کے خلاف خواتین سڑکوں پر ہوں، ایبٹ آباد میں ایک بچی کے ریپ اور قتل کے کیس پر نئے سرے سے تحقیقات کی ضرورت پیش آئے، پولیس کے رویے پر سوالات اٹھیں اور ریپ کیسز میں سزا کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہو، تو صوبائی حکومت سے صرف سیاسی بیانات نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی کا حساب بھی مانگا جائے گا۔

دیکھیے: ہری پور: زیادتی کے بعد قتل کی گئی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

متعلقہ مضامین

بلوچستان: ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

September 18, 2026

جمائما گولڈ اسمتھ نے 22 سال بعد آسٹریلوی فنانسر کیمرون او ریلی سے دوسری شادی کر لی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

September 18, 2026

طالبان حکومت نے حوثیوں سے رابطہ کر کے سعودی عرب پر حملے تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

September 18, 2026

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 17 دہشت گرد ہلاک جبکہ 6 جوان شہید ہوگئے۔

September 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *