شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

September 19, 2026

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

September 19, 2026

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

September 18, 2026

افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کو اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا ہے۔

September 18, 2026

آخر حوثی کون ہیں؟

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟
حوثی کون ہیں

ستمبر 2026ء میں سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد کشیدگی پھر بڑھ گئی ہے۔ مگر حوثی کون ہیں؟ زیدی شیعہ پس منظر، 2014ء میں صنعاء پر قبضے، ایران سے تعلق اور باب المندب میں بڑھتے اثر و رسوخ تک، یمن کی اس طاقتور تحریک کی پوری کہانی۔

September 19, 2026

ستمبر 2026 میں یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔

صورتحال اس وقت مزید حساس ہوگئی جب سعودی حکام نے مکہ مکرمہ سمیت متعدد علاقوں میں حفاظتی انتباہات جاری کیے۔ سعودی عرب کے مطابق حوثیوں کی جانب سے مکہ کی سمت آنے والے ایک بغیر پائلٹ طیارے کو روک دیا گیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

یہ تازہ کشیدگی محض سعودی عرب اور یمن کے درمیان ایک اور جھڑپ نہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب اہم مقامات پر بھی اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ باب المندب دنیا کی اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے اور اس کے ذریعے بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور بحرِ ہند ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔ حوثیوں کی اس پیش قدمی نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

آخر یہ حوثی ہیں کون، اور شمالی یمن کی ایک مذہبی و سیاسی تحریک اتنی طاقتور کیسے بن گئی کہ آج وہ سعودی عرب کو براہِ راست چیلنج کرنے اور دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

آئیے حوثیوں کو سمجھتے ہیں

حوثیوں کو سمجھنے کے لیے صرف حالیہ حملوں کو دیکھنا کافی نہیں۔ ان کی موجودہ طاقت کے پیچھے یمن کی کئی صدیوں پر محیط مذہبی اور سیاسی تاریخ موجود ہے۔

حوثی یمن میں سرگرم ایک سیاسی، مذہبی اور مسلح تحریک ہے، جسے وہ خود انصار اللہ کہتے ہیں۔ حوثی نام اس تحریک کے بانی رہنما حسین بدرالدین الحوثی اور ان کے خاندان کے نام سے نکلا ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر شمالی یمن کے زیدی شیعہ علاقوں سے ابھری، تاہم وقت کے ساتھ یہ محض ایک مذہبی تحریک نہیں رہی بلکہ ایک طاقتور سیاسی اور عسکری قوت میں تبدیل ہوگئی۔

حوثیوں کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے زیدیہ کے تاریخی اور مذہبی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔

زیدیہ کون ہیں؟

زیدیہ کا نام زید بن علی سے نکلا ہے، جو حضرت علیؓ کے پڑپوتے تھے۔ حضرت علیؓ نبی کریم ﷺ کے چچا زاد اور داماد تھے اور فرقہ زیدیہ کے نزدیک انتہائی اہم مذہبی شخصیت ہیں۔

سن 740میں زید بن علی نے دمشق سے حکومت کرنے والی اموی سلطنت کے خلاف بغاوت کی۔ وہ اس بغاوت میں مارے گئے اور زیدی روایت میں انہیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والے ایک صالح اور عادل رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ زیدی فکر میں زید بن علی کی شخصیت خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے حکمران کے خلاف مزاحمت کی جسے وہ ظالم اور بدعنوان سمجھتے تھے۔

اسی تاریخی تصور نے زیدی سیاسی فکر پر گہرا اثر ڈالا۔ ظلم، ناانصافی اور بدعنوانی کے خلاف مزاحمت زیدی روایت کا ایک اہم پہلو بن گئی۔ حوثیوں نے بھی اپنے سیاسی بیانیے میں بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کو مرکزی حیثیت دی۔

زیدیہ کے عقائد اثنا عشری شیعوں سے بھی مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر زیدی مذہبی نظام میں وہی مذہبی قیادت موجود نہیں جو ایران کے اثنا عشری شیعہ نظام میں آیت اللہ کے منصب کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح زیدی مذہبی روایت میں پردہ پوشی کے اس تصور کو بھی وہی حیثیت حاصل نہیں جو اثنا عشری فقہ میں موجود ہے۔

اس لیے حوثیوں کو صرف ایرانی طرز کے شیعہ گروہ کے طور پر بیان کرنا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔ ان کی اپنی مذہبی، سیاسی اور یمنی تاریخی جڑیں ہیں۔

یمن میں زیدی اقتدار

زید بن علی کے پیروکاروں نے نویں صدی میں شمالی یمن کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں اپنی مضبوط بنیاد قائم کی۔ اگلی کئی صدیوں تک زیدی ائمہ نے مختلف ادوار میں شمالی یمن کے علاقوں پر حکمرانی کی۔ پہاڑی شمالی یمن میں زیدی آبادی ایک اہم اکثریت رکھتی تھی۔

زیدیوں نے بیرونی طاقتوں کے خلاف بھی طویل مزاحمت کی۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں انہوں نے عثمانی سلطنت کے ساتھ متعدد مرتبہ جنگیں لڑیں اور اپنے علاقوں میں سیاسی و مذہبی خودمختاری برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

سن 1918 میں پہلی عالمی جنگ کے بعد عثمانی سلطنت کے خاتمے کے نتیجے میں شمالی یمن میں زیدی بادشاہت قائم ہوئی، جسے متوکلّی سلطنت کہا جاتا تھا۔ اس نظام میں امام بیک وقت مذہبی پیشوا اور سیاسی حکمران ہوتا تھا۔

سن 1930 کی دہائی میں اس سلطنت کی سعودی عرب کے ساتھ سرحدی جنگ ہوئی۔ یمن کو اس جنگ میں اپنے کچھ علاقے سعودی ریاست کے ہاتھوں کھونے پڑے۔ اس کے باوجود شمالی یمن کی زیدی بادشاہت کو بین الاقوامی سطح پر ایک تسلیم شدہ حکومت کی حیثیت حاصل رہی۔

انقلاب اور خانہ جنگی

یمن کی تاریخ میں ایک بڑا موڑ 1962میں آیا، جب مصری حمایت یافتہ فوجی افسران نے زیدی بادشاہت کا تختہ الٹ دیا اور ایک عرب قوم پرست جمہوری حکومت قائم کردی۔ نئی حکومت نے اپنا دارالحکومت صنعاء بنایا۔

مصر نے نئی حکومت کی حمایت کے لیے بڑی تعداد میں فوجی یمن بھیجے، جبکہ زیدی بادشاہت کے حامی پہاڑی علاقوں میں چلے گئے اور نئی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کردی۔

یہ تنازع صرف یمن کا اندرونی معاملہ نہیں رہا۔ سعودی عرب نے زیدی شاہی حامیوں کی حمایت کی، جبکہ مصر نے نئی جمہوری حکومت کا ساتھ دیا۔ اسرائیل نے بھی خفیہ طور پر شاہی حامیوں کی مدد کی۔

کئی سال جاری رہنے والی اس خانہ جنگی کے بعد بالآخر جمہوری حکومت کو کامیابی حاصل ہوئی اور یمن کا سیاسی نظام زیدی بادشاہت سے جمہوری ریاست میں تبدیل ہوگیا۔

علی عبداللہ صالح کا دور

سن 1978 میں کئی سیاسی اور فوجی تبدیلیوں کے بعد علی عبداللہ صالح یمن کے حکمران بنے۔ انہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک ملک پر حکومت کی۔

سن 1990 میں شمالی اور جنوبی یمن متحد ہوگئے اور موجودہ متحدہ جمہوریہ یمن وجود میں آیا۔ تاہم اتحاد کے باوجود سیاسی اور معاشی مسائل برقرار رہے۔

صالح حکومت پر وقت کے ساتھ بدعنوانی، اقربا پروری، اختیارات کے ارتکاز اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے الزامات لگتے رہے۔ ان کی حکومت نے امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات قائم رکھے، خصوصاً القاعدہ کے خلاف تعاون کے معاملے میں۔ 2000 میں عدن کے قریب امریکی بحری جنگی جہاز پر القاعدہ کے حملے کے بعد امریکہ اور یمنی حکومت کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید بڑھا۔

حوثی تحریک کا آغاز

حوثی تحریک کی باقاعدہ سیاسی اور مذہبی بنیادیں ۱۹۹۰ء کی دہائی میں مضبوط ہوئیں۔ اس تحریک کے نمایاں رہنما حسین بدرالدین الحوثی تھے۔

اس دور میں شمالی یمن کے زیدی علاقوں میں یہ احساس بڑھ رہا تھا کہ ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کمزور ہورہی ہے اور مرکزی حکومت ان کے علاقوں اور مسائل کو مناسب توجہ نہیں دے رہی۔

حسین الحوثی اور ان کے ساتھیوں نے علی عبداللہ صالح کی حکومت پر بدعنوانی، اقربا پروری اور قومی وسائل کو اپنے خاندان کے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے۔

حوثیوں نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی بھی مخالفت کی اور سعودی عرب کی جانب سے صالح حکومت کی حمایت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

یوں حوثی تحریک نے مذہبی شناخت، سیاسی محرومی، معاشی مسائل اور حکومت کے خلاف مزاحمت کو ایک مشترکہ سیاسی بیانیے میں تبدیل کرنا شروع کیا۔

پہلی بڑی جنگ

حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان کشیدگی بالآخر ۲۰۰۴ء میں کھلی مسلح جنگ میں تبدیل ہوگئی۔

اس وقت حسین الحوثی حکومت کے خلاف مزاحمت کی قیادت کر رہے تھے۔ یمنی حکومت نے ان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی اور اسی سال حسین الحوثی مارے گئے۔

ان کی ہلاکت کے بعد تحریک ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بجائے ان کے خاندان اور ساتھیوں نے مزاحمت جاری رکھی اور عبدالملک الحوثی تحریک کے سب سے اہم رہنماؤں میں شامل ہوگئے۔

یاد رہے کہ 2004 سے ۲201 کے درمیان حکومت اور حوثیوں کے درمیان کئی مرتبہ جنگ ہوئی۔ ان لڑائیوں کو مجموعی طور پر صعدہ کی جنگیں کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کا مرکز شمالی یمن کا صوبہ صعدہ تھا۔

ان جنگوں نے حوثیوں کو ایک منظم مسلح قوت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

عرب بہار اور حوثیوں کا پھیلاؤ

۲۰۱۱ء میں عرب دنیا میں احتجاجی تحریکوں کا سلسلہ یمن تک بھی پہنچا۔ علی عبداللہ صالح کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور بالآخر انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔

ان کی جگہ عبدربہ منصور ہادی نے اقتدار سنبھالا۔

لیکن اقتدار کی یہ منتقلی یمن کے بنیادی مسائل حل نہ کرسکی۔ ملک پہلے ہی شدید معاشی مشکلات، بے روزگاری، سیاسی تقسیم، قبائلی کشمکش، جنوبی علیحدگی پسند تحریک اور مسلح گروہوں کی موجودگی کا شکار تھا۔

اسی صورتحال میں حوثیوں نے شمالی یمن میں اپنی سیاسی اور عسکری طاقت مزید بڑھائی۔

صنعاء پر قبضہ

حوثیوں کی طاقت میں سب سے بڑا اضافہ 2014میں ہوا۔

حوثی جنگجو شمالی یمن سے آگے بڑھے اور صنعاء پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکومت شدید دباؤ میں آگئی۔

جنوری 2015 میں ہادی نے استعفیٰ دیا اور بعد میں عدن چلے گئے۔ یمن میں سیاسی بحران تیزی سے ایک وسیع مسلح تنازع میں تبدیل ہوگیا۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب حوثی تحریک شمالی یمن کی ایک مقامی مزاحمتی تحریک سے بڑھ کر ملک کی سب سے طاقتور سیاسی اور عسکری قوتوں میں شامل ہوگئی۔

سعودی عرب کی مداخلت

پھر 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک عرب اتحاد نے یمن میں فوجی کارروائی شروع کردی۔ سعودی عرب کا مؤقف تھا کہ اس کارروائی کا مقصد حوثیوں کو پیچھے دھکیلنا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو بحال کرنا ہے۔

اس کے بعد یمن کی جنگ ایک وسیع علاقائی تنازع بن گئی۔

سعودی عرب حوثیوں کے خلاف کارروائی کررہا تھا، جبکہ ایران پر حوثیوں کو سیاسی، فوجی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کے الزامات لگتے رہے۔

ایران اور حوثیوں کا تعلق

ایران اور حوثیوں کے تعلقات یمن کے تنازعے کا ایک اہم پہلو ہیں۔ ایران کو حوثیوں کا اہم علاقائی حامی سمجھا جاتا ہے اور مختلف ذرائع کے مطابق حوثیوں کو میزائل، بغیر پائلٹ طیاروں اور دیگر فوجی صلاحیتوں کے حصول میں ایرانی مدد حاصل ہوئی۔

تاہم حوثیوں کو صرف ایران کی ایک تابع قوت قرار دینا بھی یمن کی صورتحال کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتا۔ حوثی تحریک کی اپنی مقامی یمنی تاریخ، مذہبی شناخت، قبائلی روابط اور سیاسی مفادات ہیں۔ ایران کے ساتھ ان کے تعلقات خاص طور پر یمنی جنگ کے دوران مضبوط ہوئے اور ایرانی مدد نے ان کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔

جنگ بندی

پھر 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے یمن میں ایک اہم جنگ بندی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں کمی آئی۔

تاہم جنگ بندی یمن کے بنیادی سیاسی مسئلے کا مستقل حل ثابت نہیں ہوئی۔ اقتدار کی تقسیم، معاشی بحران، ریاستی اداروں کا مستقبل اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان اختلافات بدستور موجود رہے۔

حوثی آج کیوں اہم ہیں؟

حوثی تحریک کی کہانی ایک مقامی زیدی مذہبی و سیاسی تحریک سے شروع ہوئی، لیکن کئی دہائیوں کی جنگ اور سیاسی بحران کے بعد یہ یمن کی ایک بڑی عسکری اور سیاسی قوت بن چکی ہے۔

اس کے اثرات اب صرف یمن تک محدود نہیں رہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ طویل تنازع، اسرائیل کے خلاف موقف، غزہ کی جنگ اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے حوثیوں کو مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سیاست کا ایک اہم فریق بنا دیا ہے۔

حوثیوں کو سمجھنے کے لیے یمن کی تاریخ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی موجودہ طاقت کے پیچھے زیدی مذہبی تاریخ، شمالی یمن کی سیاسی محرومی، علی عبداللہ صالح کے خلاف مزاحمت، 2014 میں صنعاء پر قبضہ، سعودی عرب کے ساتھ جنگ اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات—یہ سب عوامل شامل ہیں۔

اسی لیے حوثیوں کی کہانی صرف ایک مسلح گروہ کی کہانی نہیں، بلکہ یمن کی ایک صدی سے زیادہ پرانی سیاسی، مذہبی اور علاقائی کشمکش کی کہانی بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

September 19, 2026

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

September 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *