خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات پر سیاسی حلقوں نے صوبائی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
ثمر ہارون بلور کا بیان
عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما ثمر ہارون بلور نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں پولیس اور کسٹمز کے ناکے پر ٹریکٹر خودکش حملہ ہوا، جس میں اہلکار اور بچہ شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عوام کو تحفظ دینے کے بجائے سیاسی انتشار اور مارچ میں مصروف ہے، جبکہ عوام کے مسائل سے مکمل لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔
ارباب خضر حیات خلیل کی تنقید
ارباب خضر حیات خلیل نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی گئی ہے۔ ان کے مطابق مختلف اضلاع میں سیکیورٹی اہلکار، پولیس اور عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت عوام کی سیکیورٹی چھوڑ کر صرف اسلام آباد پر چڑھائی کے بہانے تراش رہی ہے اور اس کی سیاسی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔
علی خان یوسفزئی کے سوالات
مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علی خان یوسفزئی نے کہا کہ درازندہ چیک پوسٹ پر حملے میں قیمتی جانوں کا ضیاع صوبے میں دہشت گردی کے تسلسل کا ثبوت ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اس سے قبل کوہاٹ پولیس لائنز اور مختلف جھڑپوں میں افسران اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت شہداء کے جنازوں تک میں شریک نہیں ہوتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھاری فنڈز کے باوجود سی ٹی ڈی کو فعال نہیں کیا گیا اور سیف سٹی جیسے منصوبے ادھورے چھوڑ دیے گئے۔
اختیار ولی خان کا مؤقف
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ کے بعد ڈی آئی خان میں فورسز کے جوانوں کی شہادت کے باوجود حکمرانوں کو آئینی ذمہ داریوں کا احساس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو ایسے حکمرانوں کی ضرورت نہیں جن کی ترجیح عوام کے مسائل حل کرنا نہ ہو، بلکہ وہ محض سیاسی نعرے بازی تک محدود رہیں۔
صوبیہ خان کے الزامات
سیاسی رہنما صوبیہ خان نے کہا کہ گزشتہ دس دنوں کے اندر کوہاٹ، ہنگو اور اب ڈی آئی خان میں ہونے والے واقعات صوبے کی حکمران جماعت کی ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث معصوم شہری اور بچے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں، جبکہ حکمران امن و امان کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنانے میں ناکام ہیں۔
گورنر راج اور فوری اقدامات کا مطالبہ
دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی کہا کہ صوبے میں آئے روز لاشیں گر رہی ہیں، مگر صوبائی قیادت مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر کوئی مربوط سیکیورٹی پلان تیار کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے صدر اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں فوری انتظامی مداخلت کی جائے تاکہ سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے عوام کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔