گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی پی ٹی آئی کے خلاف کھل کر بول پڑے۔ انہوں نے ٹی وی پروگرام میں کہا کہ پی ٹی آئی پہلے سرکاری وسائل پر احتجاج کرتی تھی۔ اب اپنی جیب سے خرچ کرنا پڑا تو یہ تاریخ پر تاریخ دے رہے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے مطابق بیس لاکھ افراد لانے کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔ میدان میں کوئی عوامی موبلائزیشن نہیں تھی۔ رہنما خود ساختہ روپوش ہوئے یا گرفتاریاں دے دیں۔ لانگ مارچ کے لیے ان کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ایجنڈا بانی کی رہائی نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں رہائی کی کوئی شق تھی؟
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قیادت بانی کی رہائی سے سیاسی نقصان دیکھتی ہے۔ اس جماعت نے تیرہ سالوں میں صوبے کو تباہ کیا۔ کے پی کے تاجر ان کی پالیسیوں سے سخت پریشان ہیں۔
امن و امان کے مسائل
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر سیاسی پولیس کے نعرے سے مکر چکی ہے۔ اب یہ پولیس کو اپنے تابع کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پولیس ایکٹ سے متعلق بل اسمبلی سے آئے گا تو جائزہ لیں گے۔ پولیس صوبے کے امن کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ ڈی آئی خان حملے پر حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی اور کوئی قرارداد نہیں لائی۔
گورنر راج کا امکان
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ ریاست ملک دشمن عناصر سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔ کے پی حکومت افغانستان سے متعلق قومی پالیسی کے خلاف نہیں جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں گورننس کا شدید بحران ہے۔ تاجر، اساتذہ اور سرکاری ملازمین سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حالات نہ سدھرے تو گورنر راج آخری آپشن ہو گا۔