افغان طالبان حکومت نے کنڑ اور نورستان میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں کا ملبہ ایک بار پھر پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ الزام تراشی اپنے اندرونی انتظامی بحران اور مقامی مزاحمت سے عالمی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہے۔
حقائق کے مطابق بدخشان، نورستان اور کنڑ کے علاقوں میں جھڑپیں جولائی سے جاری ہیں۔ افغان طالبان خود وہاں اے ایف ایف، این آر ایف اور داعش سمیت مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی کا اعتراف کر چکے ہیں۔
اصل تنازع قندہاری طالبان کی جانب سے مقامی کانوں اور قدرتی وسائل پر زبردستی قبضے کے بعد شروع ہوا۔ قندھار سے غیر مقامی فورسز لانے پر مقامی افغان دھڑے شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
طالبان حکام نے تشہیری مہم کے دوران جن افراد کی تصاویر جاری کیں، وہ واضح طور پر مقامی افغان شہری دکھائی دیتے ہیں۔ دور افتادہ اور سخت سرد پہاڑی علاقوں کے برعکس ان افراد کے کپڑے صاف ستھرے اور غیر موزوں تھے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ افراد پہلے سے طالبان کی قید میں تھے جنہیں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔ دوسری صورت میں یہ عام شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کر کے درانداز ظاہر کیا گیا۔ افغان طالبان حکومت ہلاک یا گرفتار افراد کی پاکستانی شہریت یا دراندازی کا کوئی ایک بھی مصدقہ ثبوت پیش نہیں کر سکی۔
ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزامات عائد کرنا نہ صرف اندرونی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے، بلکہ یہ طرزِ عمل اسلام آباد کے ساتھ معمول کے تعلقات کے افغان دعووں کی کھلی نفی بھی کرتا ہے۔