بھارتی پنجاب کے شہر پھگواڑا میں واقع لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں حالات اچانک کشیدہ ہو گئے۔ گرلز ہاسٹل میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کی اطلاعات سامنے آنے پر طلبہ نے رات گئے شدید احتجاج شروع کیا۔
یہ احتجاج جلد ہی پرتشدد رخ اختیار کر گیا۔ مشتعل افراد نے کیمپس کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے، گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا اور املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔
ہنگامہ آرائی کے باعث جالندھر-پھگواڑا نیشنل ہائی وے کئی گھنٹوں تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہی۔ بعد ازاں پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر این ایچ 44 کو کھلوایا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کا دعویٰ ہے کہ تین روز قبل ہاسٹل میں ایک طالبہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ لڑکی کو واقعے کے بعد خاموشی سے گھر بھیج دیا گیا تھا۔
طلبہ نے الزام عائد کیا کہ کیمپس میں زیرِ تعمیر منصوبے پر کام کرنے والا مزدور اس واقعے میں ملوث تھا۔ سوشل میڈیا پر طالبہ کی مبینہ خودکشی کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں، جن کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
تحقیقاتی ٹیم کا قیام
جالندھر رینج کے ڈی آئی جی نوین سنگلا کے مطابق طالبہ کے بیان کی بنیاد پر باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے تفتیش کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
یہ ٹیم سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگز اور فرانزک شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔ ایس ایس پی کپور تھلہ گورو تورا کے مطابق نامعلوم ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 64 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
ایس ایس پی جالندھر رورل ہرویندر سنگھ ورک نے بتایا کہ ہنگاموں کے دوران پولیس کی چار سے پانچ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
بھارتی پنجاب میں لڑکیوں کےہاسٹل میں بھارتی فوجیوں کیطرف سےدست درازی کرنےپرمظاہرےشروع ہوگئےہیں اورلگ رہاہےیہ مظاہرےاب پنجاب کوبھارت سےالگ کرکےہی رکیں گے
— Na Kar Yaar 🇵🇰 ☣️ 🪖 نہ کر یار (@MdeensTR) September 28, 2026
پاکستان کواب شریف بچہ بنتےکی ضرورت نہیں اورموقعےسےفائدہ اٹھاتےہوئےسکھوں کی ہرطرح کی مددکرنی چاھیے،جیسےبھارت بلوچستان میں کررہاہے pic.twitter.com/Ikxn0e1cJj
کشیدہ صورتحال کے باعث یونیورسٹی نے پیر سے 10 روز کے لیے تمام کلاسز معطل کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ جاری مڈٹرم امتحانات بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
پنجاب کے بعد دیگر بھارتی تعلیمی مراکز اور ریاستوں میں بھی طلبہ اور نوجوانوں کا اضطراب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ چتکارہ یونیورسٹی میں سامنے آنے والے مناظر اور پولیس گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات سمیت چھتیس گڑھ کی حالیہ بے چینی نے واضح کیا ہے کہ عوامی سطح پر غصے کی لہر تیزی سے سر اٹھا رہی ہے۔
بھارت کی چتکارہ یونیورسٹی کی تصویروں میں طلباء کو پولیس کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
— نوید احسن ھاشمی (@AhsanHashmi304) September 28, 2026
کیا چیف جسٹس دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں، یا اس بار کچھ بڑا منصوبہ بنایا جا رہا ہے؟
چھتیس گڑھ میں جو کچھ ہوا وہ حکومت ہند کے خلاف نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے غصے کا ٹریلر لگتا ہے۔…
مبصرین کے مطابق تعلیمی کیمپسز میں ریاستی مشینری کے خلاف پرتشدد ردعمل اور عدالتی نظام کی عدم توجہی پر اٹھتے سوالات محض وقتی ہنگامہ آرائی نہیں، بلکہ بھارتی نوجوانوں کے اندر طویل عرصے سے دبے ہوئے عدم تحفظ اور پالیسیوں کے خلاف گہرے لاوے کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔
زمینی حقائق
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی دہلی طویل عرصے سے اپنے سفارتی اور ابلاغی وسائل پاکستان اور مسلم دنیا کے خلاف جھوٹا بیانیہ گھڑنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ بیرونی سطح پر الزامات لگا کر دنیا کی توجہ ہٹانے کی مسلسل کوششیں کی جاتی ہیں۔
تاہم بھارتی پنجاب ہاسٹل تنازع جیسے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ منفی پراپیگنڈا الٹا نئی دہلی کے گلے پڑ چکا ہے۔ بیرونی مہم جوئی کے باوجود بھارت کا اصل چہرہ اور اس کے اندرونی انتظامی تضادات اب کھل کر عالمی برادری کے سامنے آ گئے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ جب ریاست اندرون ملک خواتین کے تحفظ اور اداروں کی شفافیت کو یقینی بنانے میں ناکام رہے، تو سرحد پار الزامات کی سیاست بھی ریاستی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔
دیکھیے: مقبوضہ کشمیر: بھارتی مظالم میں اضافہ، 3500 سے زائد کشمیری گرفتار