پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہونے پر شہری بالآخر میدان میں نکل آئے۔ صوبے کے عوام نے مسلسل سیاسی کشیدگی، سڑکوں کی بندش اور انتظامی غفلت پر وزیراعلیٰ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آئے روز کے احتجاج نے کاروباری سرگرمیوں اور عام آدمی کے روزگار کو تباہ کر دیا ہے۔
متاثرہ شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو انتشار نہیں بلکہ امن، روزگار اور معمولاتِ زندگی کی بحالی درکار ہے۔ مسلسل سیاسی مظاہروں نے صوبے کے بنیادی مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
تحریک انصاف کی پالیسیاں
شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کی سیاسی روش پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مقاصد کے لیے عوام کا راستہ روکنا اور ملکی اداروں کے خلاف مہم چلانا ناقابلِ قبول ہے۔ امن و استحکام کے بغیر صوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا، جبکہ موجودہ قیادت زمینی مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
عوامی حلقوں کا مؤقف تھا کہ حکمرانوں کو ذاتی اور جماعتی ترجیحات چھوڑ کر صوبے کے حالات سدھارنے پر توجہ دینی چاہیے۔ شہریوں نے زور دیا کہ عوام اب نعروں سے بیزار ہو چکے ہیں اور انہیں عملی ریلیف، امن عامہ اور معاشی تحفظ کی فوری ضرورت ہے۔
دیکھیے: کے پی میں بدامنی: سیاسی قائدین کی پی ٹی آئی پر شدید تنقید، گورنر راج کا مطالبہ