مظفرآباد: خطے میں مبینہ طور پر بے چینی اور بدامنی کے واقعات میں ملوث جتھے کے سرغنہ سردار امان نے اپنے ایک حالیہ خطاب کے دوران آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر دونوں کو مقبوضہ قرار دے کر ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
سردار امان نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ دونوں خطے متنازع نہیں بلکہ مقبوضہ ہیں، جہاں ایک جانب ہندوستان اور دوسری جانب پاکستان قابض ہے۔ ان کے اس بیان کو عوامی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں انتہائی گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارتی بربریت اور زمینی حقائق
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کا موازنہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے کرنا تاریخ اور موجودہ زمینی حقائق سے صریح آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ریاستی جبر کسی سے پوشیدہ نہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں 9 لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ چپے چپے پر قائم فوجی چوکیاں، تلاشی آپریشنز اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں پوری وادی کو عملاً ایک کھلی جیل میں تبدیل کر چکی ہیں۔
وہاں لاکھوں کشمیری گزشتہ کئی دہائیوں سے قتل و غارت، غیر قانونی گرفتاریوں، تشدد اور جھوٹے مقدمات کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی شہریوں کی غیر قانونی آبادکاری کے ذریعے خطے کا آبادیاتی تناسب بھی تیزی سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کے شہریوں کو حاصل حقوق
اس کے برعکس آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال مقبوضہ وادی سے یکسر مختلف ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام مکمل آزادی، جمہوری خودمختاری اور پرامن ماحول میں اپنی روزمرہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
یہاں کے شہریوں کو وہ تمام بنیادی انسانی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی حقوق حاصل ہیں جو کسی بھی آزاد ریاست کے شہری کو میسر ہوتے ہیں۔ خطے کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں معمول کی سرگرمیاں بلا خوف و خطر جاری رہتی ہیں۔
بھارتی مظالم
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد خطے کا مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ موازنہ دراصل کشمیری شہدا کی قربانیوں کی توہین ہے۔ یہ بیانیہ مقبوضہ وادی میں جاری دہائیوں پر محیط بھارتی جبر کو دانستہ طور پر دھندلانے کی کوشش ہے۔
عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بدامنی پھیلانے والے عناصر ذاتی مقاصد اور انتشار کے لیے ایسے بیانیے تراش رہے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تاریخ مسخ کرنے اور کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو نقصان پہنچانے والے منفی پروپیگنڈے کا سختی سے سدِباب کیا جائے۔