طالبان حکومت کے دوران اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک بار پھر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو بازار میں سرِعام تذلیل اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس واقعے نے طالبان کے عام معافی اور مساوی حقوق کے تمام تر دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔
سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق نوجوان کو محض اس کی نسلی اور مسلکی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ طالبان اہلکاروں کی جانب سے بازار کے ہجوم میں کی جانے والی اس کارروائی نے شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق دارالحکومت سمیت مختلف صوبوں میں شہریوں سے اس نوعیت کا توہین آمیز سلوک معمول بن چکا ہے۔
Taliban’s Humiliation of Hazaras Continues ‼️
— Kabul Point English (@Kabulpoint) September 28, 2026
Another disturbing incident has emerged from Afghanistan, where a young member of the Hazara community was reportedly subjected to public humiliation in a bazaar.
This is not an isolated concern. Recent reporting has documented… pic.twitter.com/Et3gFnMPqI
افغانستان میں ہزارہ برادری کے ساتھ امتیازی سلوک کی تاریخ نئی نہیں، مگر موجودہ دورِ حکومت میں ان کے خلاف من مانی کارروائیاں اور گرفتاریاں شدت اختیار کر چکی ہیں۔ عالمی سطح پر بھی یہ اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں کہ اقلیتی طبقات کو بنیادی تحفظ اور برابری کے حقوق میسر نہیں ہیں۔ روزمرہ زندگی میں بھی انہیں دانستہ طور پر خوف اور دباؤ کے ماحول میں دھکیلا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مسلکی بنیاد پر شہریوں کی توہین اور تشدد ناقابلِ قبول ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک ان واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ جواب دہی یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک خطے میں امن اور انسانی وقار کا قیام ممکن نہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں اقلیتوں کی نسل کشی اور ناروا سلوک کے سدباب کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔