افغانستان میں اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق خدشات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایک حالیہ واقعے میں ایک معمر شہری پر تشدد کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع اور سوشل میڈیا اطلاعات کے مطابق، مذکورہ بزرگ شہری پر مبینہ طور پر اس وقت تشدد کیا گیا جب اس نے اپنی ذاتی اراضی حوالے کرنے سے انکار کیا۔ واقعے کی بازگشت کے بعد عام شہریوں میں اپنے تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جائیدادوں اور وسائل پر تصرف سے متعلق تنازعات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں عام شہریوں کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
⚠️These bearded #Taliban thugs have crossed every limit of brutality.
— Jia_Ali (@Jiaa_Ali09) September 29, 2026
They beat an elderly man just because he refused to hand over his land to them… Since they seized power in #Afghanistan 🇦🇫, a reign of terror has ruled everywhere and no one is their to held accountable.😶 pic.twitter.com/RPCpbytzZI
افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے نگراں ادارے وقتاً فوقتاً انصاف کے یکساں نظام اور احتساب کے فقدان پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
شہری حلقوں کا مؤقف ہے کہ آزاد عدالتی طریقہ کار اور قانونی بازپرس کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کے باعث عام آبادی کے تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ خاص طور پر کمزور اور بزرگ افراد ایسے تنازعات میں زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک قانونی عملداری اور شفاف احتساب کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، اس قسم کی شکایات اور عوامی بے چینی میں کمی کا امکان محدود رہے گا۔ مقامی سطح پر اختیارات کے استعمال کو ضابطے کے تحت لانا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔