سندھ اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف علی خورشیدی نے اٹھارہویں ترمیم کو مکمل طور پر ناکام قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے مسائل کا واحد حل اب نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام میں مضمر ہے۔
جامعہ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ موجودہ نظام عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، اس لیے اب نئے انتظامی یونٹس کی جانب بڑھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے صوبے نہ بننے دینا دو سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا ذاتی مسئلہ ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کے دو مخصوص خاندان ہیں اور دوسری طرف ملک کے کروڑوں عوام اپنے بنیادی حقوق کے منتظر ہیں۔
علی خورشیدی نے مزید کہا کہ جب تک موجودہ فرسودہ گورننس ماڈل کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بین الاقوامی شہر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ اختیارات کا ارتکاز ہے۔
انہوں نے سندھ اور پنجاب کے حکومتی ڈھانچے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ایک مفلوج نظام مسلط ہے جبکہ پنجاب میں ون وومن شو چل رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ غیر متوازن نظام ثابت کرتا ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔
تعلیم اور انفراسٹرکچر کی ابتر صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پورا ریاستی نظام محض عارضی انتظامات پر چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ ملکی بقا اور عوامی خوشحالی کے لیے انتظامی بنیادوں پر فوری طور پر نئے صوبے تشکیل دیے جائیں۔