افغانستان کے صوبہ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ میں شدید بم دھماکا ہوا ہے۔ اس حملے میں طالبان کے گورنر حیات اللہ مبارک شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
مسجد کے قریب دھماکا ذرائع کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب گورنر نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے۔ دھماکے کی شدت سے آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
افغان جریدے دی افغان ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کے داماد بھی ہلاک ہو گئے ہیں، جو واقعے کے وقت گورنر کے ہمراہ موجود تھے۔
جانی نقصان کی اطلاعات رپورٹس کے مطابق حملے میں گورنر کے حفاظتی عملے اور قریبی ساتھیوں میں سے بھی متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ گورنر حیات اللہ مبارک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
طالبان حکام کی خاموشی واقعے اور مکمل جانی نقصان سے متعلق طالبان انتظامیہ نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
سیکیورٹی صورتحال پر سوالات صوبائی مرکز میں اس نوعیت کا حملہ طالبان کے انٹیلی جنس اور حفاظتی نظام پر بڑا سوال ہے۔ اس واقعے نے ملک کے اندر طالبان قیادت کے تحفظ سے متعلق خطرات کو مزید واضح کر دیا ہے۔
دیکھیے: افغان سرزمین سے دہشت گردی ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے، وزیر اطلاعات