کسی بھی ملک کی سکیورٹی فورس صرف ہتھیاروں، وردیوں اور بڑی تعداد سے مضبوط نہیں ہوتی۔ اصل طاقت نظم و ضبط، باہمی اعتماد، قیادت، تربیت اور اہلکاروں کی ذہنی و جسمانی حالت سے بنتی ہے۔
جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں 29 ستمبر 2026 کو پیش آنے والا واقعہ اسی بنیادی حقیقت کی طرف دوبارہ توجہ دلاتا ہے۔ سیوا ہائیڈل پاور پروجیکٹ پر تعینات سی آئی ایس ایف کے ایک ہیڈ کانسٹیبل نے مبینہ طور پر ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ اور دو کانسٹیبل ہلاک ہوگئے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ ایک اہم سوال اٹھاتا ہے۔ جب کسی سکیورٹی فورس کے اندر ایک اہلکار اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لے تو مسئلہ صرف ایک فرد کے غصے تک محدود نہیں رہتا۔ ایسے واقعات فورس کے اندر موجود دباؤ، انتظامی مسائل، باہمی تعلقات اور ذہنی صحت کے بارے میں بھی سوال پیدا کرتے ہیں۔
یہاں یہ فرق بھی واضح رہنا چاہیے کہ سی آئی ایس ایف، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف بھارتی فوج کا حصہ نہیں بلکہ بھارتی وزارت داخلہ کے تحت مرکزی مسلح پولیس فورسز ہیں۔ تاہم بھارتی فوج کے اپنے الگ اعداد و شمار بھی ماضی میں خودکشی اور فرائیٹریسائیڈ کے واقعات ریکارڈ کر چکے ہیں۔ اس لیے دونوں کو ایک ہی ادارہ قرار دینا درست نہیں، لیکن دونوں میں اہلکاروں کی فلاح، ذہنی دباؤ اور نظم و ضبط کا سوال اہم ضرور ہے۔
پانچ برس میں 745 خودکشیاں
بھارتی وزارت داخلہ کے 11 فروری 2026 کے راجیہ سبھا جواب کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران مرکزی مسلح پولیس فورسز، آسام رائفلز اور نیشنل سکیورٹی گارڈ میں مجموعی طور پر 745 خودکشیاں ریکارڈ ہوئیں۔
اعداد کے مطابق 2021 میں 158، 2022 میں 138، 2023 میں 157، 2024 میں 149 اور 2025 میں 143 خودکشیاں ہوئیں۔ اسی عرصے میں 24 فرائیٹریسائیڈ واقعات بھی ریکارڈ ہوئے۔ 2021 میں 11، 2022 میں 6، 2023 میں 2، 2024 میں 1 اور 2025 میں 4 ایسے واقعات سامنے آئے۔
یہ اعداد ایک بات واضح کرتے ہیں۔ خودکشیوں کی تعداد ہر سال مسلسل بڑھتی نہیں رہی، لیکن یہ مسئلہ بھی ختم نہیں ہوا۔ پانچ برس میں 745 اموات اس مسئلے کی مستقل نوعیت ضرور ظاہر کرتی ہیں۔ فرائیٹریسائیڈ کے 24 واقعات بھی بتاتے ہیں کہ بعض صورتوں میں اندرونی کشیدگی انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔
کئی فورسز متاثر
وزارت داخلہ کے 2023 سے 2025 کے تفصیلی اعداد کے مطابق صرف تین برس میں سی آئی ایس ایف میں 60 خودکشیاں ہوئیں۔
اسی عرصے میں سی آر پی ایف میں 159، بی ایس ایف میں 120، ایس ایس بی میں 35، آئی ٹی بی پی میں 32 اور آسام رائفلز میں 28 خودکشیاں ریکارڈ ہوئیں۔ مجموعی تعداد 438 رہی۔
ان اعداد میں 7 فرائیٹریسائیڈ بھی شامل ہیں۔ 2023 میں 2، 2024 میں 1 اور 2025 میں 4 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 2025 میں سامنے آنے والے چار کیسز میں دو سی آر پی ایف، ایک بی ایس ایف اور ایک آئی ٹی بی پی سے متعلق تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2023 سے 2025 تک سی آئی ایس ایف کے سرکاری ریکارڈ میں کوئی فرائیٹریسائیڈ درج نہیں تھا۔ کٹھوعہ کا واقعہ 2026 میں اس فورس کے اندر سامنے آنے والا ایک نیا واقعہ ہے۔
حکومت خود خطرے میں
یہ مسئلہ صرف باہر سے ہونے والی تنقید نہیں۔ بھارتی حکومت خود اس کی وجوہ جاننے کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دے چکی ہے۔
بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق 2021 میں ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی تاکہ سی اے پی ایف اور آسام رائفلز میں خودکشی کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل کی نشاندہی کی جا سکے اور ان کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں۔ حکومت نے گھریلو مسائل، بیماری اور مالی مشکلات کو خودکشیوں میں معاون عوامل میں شامل کیا۔
بھارتی سکیورٹی اداروں کے متعلق تحقیقی جائزوں میں اس کے ساتھ کام کے حالات بھی زیر بحث آئے ہیں۔ بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے مطابق پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کو طویل اوقات کار، مشکل ماحول، خاندان کے لیے کم وقت، رات کی ڈیوٹیاں اور مشکل رہائشی حالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ ایسے حالات ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر ڈال سکتے ہیں اور بعض حالات میں خودکشی اور فرائیٹریسائیڈ جیسے واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بی پی آر اینڈ ڈی نے ایسے واقعات کے اثرات کو صرف مرنے والے یا فائرنگ کرنے والے اہلکار تک محدود نہیں رکھا۔ ادارے کے مطابق خودکشی اور فرائیٹریسائیڈ کے واقعات پوری فورس کے حوصلے اور اس کی عوامی ساکھ پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
تحقیق میں ذہنی دباؤ بھی نمایاں
2025 میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے محققین نے 353 غیر گزٹڈ سی آر پی ایف اہلکاروں پر ایک مطالعہ کیا۔ تقریباً تین چوتھائی اہلکاروں میں درمیانے درجے کا پیشہ ورانہ دباؤ پایا گیا، جبکہ تقریباً 2 فیصد نے شدید درجے کا دباؤ رپورٹ کیا۔
تحقیق میں خاندان سے جسمانی دوری، خاندان کے لیے ناکافی وقت، خطرناک فرائض اور اضافی مالی ذمہ داریوں کو ذہنی دباؤ سے منسلک عوامل قرار دیا گیا۔ محققین نے باقاعدہ مشاورت، خاندان کی مدد اور مناسب آرام جیسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اس تحقیق سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے۔ ذہنی دباؤ صرف کسی ایک غیر معمولی واقعے کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات مسلسل ڈیوٹی، گھر سے دوری، خطرناک ذمہ داری اور روزمرہ کے مسائل مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں اہلکار پر دباؤ بڑھتا رہتا ہے۔
خودکشی انتہائی سنگین مسئلہ ہے، لیکن فرائیٹریسائیڈ اس سے بھی مختلف نوعیت کا خطرہ سامنے لاتا ہے۔
ایک اہلکار اگر اپنی جان لے تو ایک خاندان اور ایک ادارہ متاثر ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک اہلکار اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کرے تو ایک پوری یونٹ کے اندر اعتماد اور تحفظ کا احساس متاثر ہو سکتا ہے۔
کٹھوعہ کا واقعہ اسی لیے اہم ہے۔ یہاں خطرہ کسی سرحد پار حملہ آور سے نہیں آیا۔ خطرہ اسی یونٹ کے اندر موجود ایک مسلح اہلکار سے پیدا ہوا۔ بھارتی پولیس کے مطابق اس واقعے میں چار اہلکار جان سے گئے اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
اندرونی دباؤ کا سوال
یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔ ایک سکیورٹی فورس بیرونی خطرات کا مقابلہ اسی وقت زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتی ہے جب اس کے اندر نظم، اعتماد اور کمانڈ کا نظام مضبوط ہو۔
ایسا نہیں کہ خودکشیوں یا فرائیٹریسائیڈ کے چند اعداد کی بنیاد پر کسی پوری فوج کی جنگی صلاحیت کا فیصلہ کر دیا جائے۔ جنگ کا نتیجہ کئی عوامل سے بنتا ہے۔ تربیت، قیادت، انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی، رسد، حکمت عملی اور کمانڈ سب اہم ہوتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ایک فورس کے اندر اہلکار طویل عرصے تک ذہنی دباؤ میں رہیں، اپنے خاندانوں سے دور ہوں، انتظامی شکایات کا سامنا کریں اور کبھی کبھار اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں تو اس کے اندرونی نظم اور مجموعی تیاری کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں کٹھوعہ کا واقعہ محض ایک فائرنگ کیس نہیں رہتا۔ یہ فورس کے اندرونی ماحول کا سوال بن جاتا ہے۔
استعفے اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ
بھارتی وزارت داخلہ کے تازہ پانچ سالہ اعداد میں ایک اور پہلو بھی موجود ہے۔ 2021 سے 2025 کے دوران ان فورسز میں 14 ہزار سے زیادہ استعفے اور 46 ہزار سے زیادہ رضاکارانہ ریٹائرمنٹ ریکارڈ ہوئیں۔ صرف 2025 میں 2,333 استعفے اور 4,291 رضاکارانہ ریٹائرمنٹ درج ہوئیں۔
یہ اعداد خود بخود یہ ثابت نہیں کرتے کہ تمام اہلکار ذہنی دباؤ یا بددلی کی وجہ سے ملازمت چھوڑ رہے ہیں۔ استعفے اور رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے اپنے انتظامی اور ذاتی اسباب بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب ان اعداد کو خودکشی، فرائیٹریسائیڈ اور ذہنی دباؤ کی تحقیق کے ساتھ دیکھا جائے تو اہلکاروں کی فلاح اور سروس کے حالات پر مزید توجہ کی ضرورت ضرور سامنے آتی ہے۔
حکومت کا ردعمل بھی اہم ہے
بھارتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سی اے پی ایف میں عمومی طور پر آٹھ گھنٹے کی شفٹیں رکھی جاتی ہیں، اگرچہ آپریشنل ضرورت کے مطابق اوقات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ وزارت نے فیلڈ میں تعینات اہلکاروں کے لیے 60 دن کی ارنڈ لیو اور 15 دن کی کژول لیو سمیت 75 دن کی چھٹی کا انتظام بھی بتایا ہے۔ اس کے علاوہ فورس اسپتالوں، نفسیاتی خدمات، اسٹریس مینجمنٹ، یوگا اور مراقبے کے پروگرام بھی جاری رکھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت مسئلے کو تسلیم کرتی ہے اور اس کے حل کے لیے مختلف اقدامات بھی کر رہی ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ ان اقدامات کا اثر زمینی سطح پر کتنا پڑ رہا ہے۔ کٹھوعہ جیسے واقعات اسی سوال کو پھر سامنے لے آتے ہیں۔
نتیجہ
کسی بھی ملک کی سکیورٹی فورس کی اصل طاقت صرف یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے ہتھیار ہیں۔ اصل طاقت یہ بھی ہے کہ اس کے اہلکار کتنے منظم، بااعتماد، ذہنی طور پر متوازن اور ایک دوسرے کے ساتھ کتنے مربوط ہیں۔
بھارتی سرکاری اعداد میں 2021 سے 2025 کے دوران 745 خودکشیاں اور 24 فرائیٹریسائیڈ واقعات کا ریکارڈ موجود ہے۔ تحقیق میں کام کے دباؤ، خاندان سے دوری، مشکل حالات اور دیگر مسائل کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ بھارتی حکومت نے خود ٹاسک فورسز اور ذہنی صحت کے پروگرام شروع کیے ہیں۔
اس لیے کٹھوعہ میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کو محض ایک انفرادی جھگڑا کہہ کر نظر انداز کرنا کافی نہیں۔ یہ واقعہ ایک بڑے سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ایک ایسی فورس جو بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی ذمہ دار ہے، وہ اپنے اندر موجود دباؤ، تنازعات اور ذہنی صحت کے مسائل کو کتنی مؤثر طریقے سے حل کر رہی ہے۔
بیرونی دشمن کے مقابلے میں کامیابی کے لیے صرف طاقت کافی نہیں ہوتی۔ اندرونی نظم بھی طاقت کا حصہ ہوتا ہے۔ کٹھوعہ کا واقعہ، خودکشیوں کے اعداد اور فرائیٹریسائیڈ کے کیسز اسی اندرونی نظم و ضبط اور اہلکاروں کی فلاح پر سنجیدہ غور کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں۔