اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات آج ہوں گے۔ مذاکرات کے لیے وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی پر مشتمل 6 رکنی مشترکہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
مذاکرات آج دوپہر 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہوں گے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی حکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہونے اور مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔
حکومتی اتحاد کے مشترکہ وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کریں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی مذاکرات کے لیے 6 رکنی وفد تشکیل دیا ہے۔ وفد میں بیرسٹر گوہر، علامہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجا، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی نے وفد کے ناموں کی منظوری دی ہے۔
مذاکرات کا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ایوان صدر میں ملاقات کے بعد کیا گیا۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال، بالخصوص خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم مزید مضبوط بنانے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسی دوران خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کے حوالے سے وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی بھی برقرار ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ایسا اقدام صورتحال کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال قومی اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ نہیں ہوا۔