دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر راشد ولی جانجوعہ نے اپنے تفصیلی تجزیے میں کہا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں مسلسل کشیدگی کی اصل وجہ کابل کے تاریخی توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ ان کے مطابق افغان حکمرانوں نے اپنی عوام کو ایک ایسے بے بنیاد بیانیے پر پروان چڑھایا جس کے تحت پاک افغان سرحد کو ناانصافی قرار دیا جاتا رہا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق یہ دعویٰ تاریخی حقائق سے متصادم ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان ماضی میں خود موریہ، مغلیہ اور سکھ سلطنتوں کے زیرِ اثر رہا ہے۔
ڈیورنڈ لائن معاہدہ
برطانوی ہندوستان اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ سرحد کا تعین 1893 میں ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت عمل میں آیا۔ امیر عبدالرحمان خان نے خود اس حد بندی کے لیے برطانوی خارجہ سیکریٹری سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ کو کابل مدعو کیا تھا۔
بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصول “یوتی پوسی دیتیس جورس” (Uti Possidetis Juris) کے تحت پاکستان نے یہ سرحد قانونی ورثے کے طور پر حاصل کی۔ افغانستان نے اس عمل میں نہ صرف برطانوی ہند بلکہ روس اور ایران سے بھی کئی علاقے حاصل کیے۔ اس کے باوجود 1949 میں افغان لویہ جرگہ نے تمام معاہدوں کو یکطرفہ طور پر کالعدم قرار دے کر کشیدگی کی بنیاد رکھی۔
ماضی کی عسکری مداخلتیں
تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں افغان قیادت نے پاکستان کے خلاف تخریبی مہم چلائی۔ 1960 میں سردار داؤد خان کی ایما پر افغان فوجیوں نے بھیس بدل کر باجوڑ پر حملہ کیا، جسے پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے پسپا کیا۔
سردار داؤد کے دورِ اقتدار میں بلوچستان اور سابق صوبہ سرحد کے علیحدگی پسند عناصر کو کابل میں مالی اور عسکری پناہ گاہیں دی گئیں۔ بعد ازاں سوویت جنگ میں پاکستان کے تعاون کے باوجود کابل کے توسیع پسندانہ عزائم ختم نہ ہو سکے۔
دہشت گردی کا نیا دور
سال 2021 میں کابل میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان نے خیرسگالی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے برعکس طالبان حکومت نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر عسکریت پسند تنظیموں کو کھلی چھوٹ دے دی۔
رپورٹ کے مطابق جیلوں سے خطرناک قیدیوں کی رہائی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 42 فیصد اضافہ ہوا۔ سال 2021 میں حملوں کی تعداد 128 تھی جو 2025 تک بڑھ کر 1200 سے تجاوز کر گئی۔
مضمون نگار کے مطابق طالبان حکومت دہشت گردی کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے کم لاگت حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ افغانستان کے اس طرزِ عمل کے تدارک کے لیے اب عالمی برادری کا مؤثر کردار ناگزیر ہو چکا ہے۔